اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ زرعی سائنسدان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے آر سی کے دورہ کے موقع پر کیا۔ چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر محمد عظیم …
زرعی سائنسدان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتاہے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ زرعی سائنسدان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے آر سی کے دورہ کے موقع پر کیا۔ چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر محمد عظیم خان، ڈاکٹر شمیم السطبین، ڈائریکٹر جنرل، قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، زرعی مرکز کے سائنسدانوں اور دیگر عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے دورہ کا آغاز اینیمل سائنسز انسٹی ٹیوٹ سے کیا۔ چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم خان اور ڈائریکٹر اینیمل سائنسز انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر مرتضیٰ حسن اندرابی نے دہی کے پیداواری پلانٹ (یوگرٹ پلانٹ پروڈکشن) کا دورہ کرایا اور بتایا کہ اس پلانٹ کے ذریعے دہی کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے دہی کے پیداواری یونٹ کے ذریعے عام لوگوں کو معیاری دہی کی فراہمی کی تعریف کی۔ڈاکٹر ثانیہ نشترنے دہی کے پیداواری پلانٹ پر کام کرنے والی خواتین کی تعریف اور زرعی تحقیق کے میدان میں خواتین کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ اپنے دورہ کے اگلے مرحلے میں ڈاکٹر ثانیہ نشترنے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے ہربیریم (Herbarium) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف پودوں کا معائنہ کیا۔ چیئر مین پی اے آر سی اور ہربیریم کے انچارج ڈاکٹر عامر سلطان نے وہاں ذخیرہ کئے جانے والے مختلف پودوں کی تفصیلات کے بارے میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر معاون خصوصی برائے وزیر اعظم پاکستان کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا دورہ میں انہوں نے موسمی سبزیوں کی ہائبرڈ اقسام کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور ڈاکٹر تاج نصیب خان، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کی جانب سے متعارف کی جانے والی لہسن کی نئی قسم NARC G-1 کی پیداواری صلاحیت اور آف سیزن سبزیوں کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، کو قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں قائم قومی ادارہ برائے جینیاتی تحقیق اور بائیو ٹیکنالوجی (NIGAB) کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں انہیں NIGAB کی ٹشو کلچر کے میدان میں حاصل کی جانے کامیابیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم خان اور ڈائریکٹر (NIGAB) ڈاکٹر شوکت علی نے ڈاکٹر ثانیہ نشترکو ٹشو کلچر کے استعمال سے کیلے کے کاشتکاروں کی جانب سے زیادہ پیداوار کے حصول نیز بیماریوں سے پاک کیلے کی پیداوار اور بیماریوں سے پاک آلو کے پودوں کے بارے میں آگاہی دی۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی برائے وزیر اعظم نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں نامیاتی کھادیں تیار کرنے والے جدید پلانٹ کا افتتاح بھی کیا۔ زرعی تحقیقاتی مرکز میں قائم لائیو سٹاک ریسرچ سٹیشن کے دوران کے دوران ڈاکٹر ثانیہ نشتر، انگورا ریبٹ ((Angora Rabbit)کے بارے میں بتایا گیا۔ ڈاکٹر عظیم خان نے کہاکہ انگورا ریبٹ ٹھنڈے علاقہ جات میں رہائش پذیر کاشتکار برادری کے ذریعہ معاش کو بہتربنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے نیز انگورا ریبٹ سے حاصل ہونے والی اون انتہائی قیمتی ہیڈاکٹر ثانیہ نشتر نے لائیو اسٹاک ریسرچ اسٹیشن کے زیر اہتمام پالے جانے والے جانوروں جن میں گائے، بھینسیں، بھیڑیں، بکریاں وغیر ہ شامل ہیں کے شیڈز کا دورہ بھی کیا۔ جہاں انہوں نے جانوروں پر کی جانے والی تحقیقی سرگرمیوں کا سراہا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ماہی پروری و آبی زراعت کے پروگرام کے تحت مچھلیوں کی افزائش نسل میں اضافے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اس منصوبے کے تحت تلاپیا مچھلی کی مٹی کے کچے اور ٹھوس کنکریٹ کے بنے ہوئے تالابوں میں افزائش کو ممکن بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے فش کولڈ چین اینڈ پراسیسنگ یونٹ کا بھی جائزہ لیا۔ اپنے دورہ کے اختتام پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پی اے آرسی پیٹکو کے زیر تحت تیار کی جانے والی حفظان صحت کے اصولوں پر مبنی بیکری اور جوس کی مصنوعات کی تیاری کے عمل کا بھی جائزہ لیا اور PATCO کے حفظان صحت پر مبنی تحقیقی کام کو سراہا ہے۔








