چلاس ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان بالخصوص چلاس میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگو ںکی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پن بجلی کی پیداوار سے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ ملک میں سستی بجلی …
وزیر اعظم عمران خان کا گلگت بلتستان کے دورے کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب

مزید خبریں
چلاس ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان بالخصوص چلاس میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگو ںکی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پن بجلی کی پیداوار سے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ ملک میں سستی بجلی پیدا ہوگی، اس منصوبے کی تکمیل سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہو ں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گلگت بلتستان کے دورے کے دوران یہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو آگے بڑھنے کا سوچتی ہیں۔ مشکل فیصلے کرتی ہیں۔ عوامی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور صحت و تعلیم کی سہولیات پر توجہ دینے والی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور وہ ظلم سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دور اندیشی پر عمل کرنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں جس طرح چین نے ترقی کی۔ چین میں 30سالہ منصوبے بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کم مدتی منصوبے بنائے گئے۔ انتخابات کے تناظر میں منصوبے بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاﺅں ، پانی سمیت بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دریاﺅں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ماضی میں جب تربیلا اور منگلہ ڈیم بنائے گئے تو اس سے سستی بجلی پیداہوئی اور صنعتوں کو فروغ ملا تاہم بجلی کے منصوبوں کو ایندھن پر منتقل کرنے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں اضافہ ہوا۔ روپے پر دباﺅ بڑھنے سے روپے کی قدر کم ہوئی۔ معیشت کو نقصان پہنچا، زیادہ ڈالر باہر جانے سے بھی روپے پر دباﺅ بڑھا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ انہوںنے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20 ارب تھا۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثر ہوئی ۔صنعتیں تباہ ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامربھاشا ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ بڑا فیصلہ ہے۔ ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کر کے بڑی غلطی کی۔ چین میں 5 ہزار بڑے ڈیم اور مجموعی 80 ہزار ڈیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 50 سال قبل بنایا گیا لیکن اب اس پر عمل کیاجا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی طور پر ڈیم کے لئے بہترین جگہ ہے۔ ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے ۔ ہم نے گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لئے 10 ارب درخت لگانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے بجلی کی پیداوار کے لئے ایندھن کی درآمد میں کمی آئے گی۔ سستی بجلی پیدا ہو گی۔ اس منصوبے سے ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ کورونا وبا کے باعث بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ اس منصوبے سے نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت ایس او پیز کے ساتھ سیاحت کے شعبے کو کھولے کیونکہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دیگر ممالک میں سیاحت کے شعبے کو بتدریج کھول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلاس کے لوگو ںکو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ رواں سال گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سمیت پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو بھی فنڈز فراہم کررہے ہیں۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان بالخصوص چلاس کے لوگوںکو فائدہ پہنچے گا۔








