تحریر: محمد عامرآفریدی ترجمہ : طارق عزیز تجارت افراد، کمپنیوں وفرمز ،ممالک اوراقوام کے درمیان اشیاءاورخدمات کی فروخت یا تبادلہ کے عمل کو کہتے ہیں۔ ممالک کے درمیان خریدوفروخت کے عمل کیلئے ایک خاص طریقہ کارکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے دویا دوسے زائد ممالک کے درمیان معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تجارت اورتجارتی راستوں سے نہ صرف رکاوٹیں …
پاک افغان تجارت:ايك جائزہ

مزید خبریں
تحریر: محمد عامرآفریدی
ترجمہ : طارق عزیز
تجارت افراد، کمپنیوں وفرمز ،ممالک اوراقوام کے درمیان اشیاءاورخدمات کی فروخت یا تبادلہ کے عمل کو کہتے ہیں۔ ممالک کے درمیان خریدوفروخت کے عمل کیلئے ایک خاص طریقہ کارکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے دویا دوسے زائد ممالک کے درمیان معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تجارت اورتجارتی راستوں سے نہ صرف رکاوٹیں دورکریں بلکہ تاجروں اورسرمایہ کاروں کو سہولیات، آسانیاں اوراعتماد بھی دیں۔ دو ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت میں اضافہ سے دونوں ممالک اور عوام کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے تاہم ممالک کے درمیان تجارت میں آسانیوں اورسہولیات کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل اورمشکلات بھی درپیش ہوتی ہیں جن کاجائزہ متعلقہ حکومتیں وقتاً فوقتاً لیتی رہتی ہیں اور محفوظ ماحول ، سرمایہ کاتحفظ وضمانت ، راہداری کی سہولیات ، اشیاءکی درآمد وبرآمد کیلئے ٹرانسپورٹ ، سرحدوں اور ویزوں کے اجراءکے اہم عمل کو آسان بنانے سمیت مختلف اقدامات کرتی ہیں۔

عصر حاضرمیں جب دنیا ایک عالمگیر گاﺅں میں تبدیل ہو گئی ہے،فاصلے کم ہوگئے ہیں اوروقت کی رفتار بھی تیز تر ہے، ایسے میں انسانی سوچ وفکراورتجارت کے طوروطریقے بھی تبدیل ہوگئے ہیں، ٹیکنالوجی میں جدت سے دنوں میں ہونے والے کام اب گھنٹوں اورمنٹوں میں ہورہے ہیں ، ٹیکنالوجی کی جدت اورسہولیات سے پہلے اور اب بھی انسانی جبلت کے تحت تاجروسرمایہ کار دورپار ممالک کی بجائے اپنے پڑوسی علاقوں یا ممالک کے ساتھ تجارت کو ترجیح دیتے چلے آرہے ہیں۔پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کے کئی فوائد ہیں جن میں امن وامان کی بہتری، قریبی تعلقات ، قومی دفاع اورسلامتی کا تحفظ شامل ہیں۔

پاکستان اورافغانستان بھی قریبی پڑوسی اور برادرممالک ہیں جو زبان، ثقافت کے ساتھ ساتھ مشترکہ مذہب اورتاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان محبت اوربھائی چارے کے تعلقات اتنے مضبوط اوربااعتماد ہیں کہ جب 1979ءمیں روس نے افغانستان پرحملہ کیا تودیگر ممالک کے برعکس افغان شہریوں نے بڑی تعدادمیں پاکستان کا رخ کیا جہاں انہوں نہ صرف عزت اوروقار کے ساتھ زندگی گذاری بلکہ آج بھی افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں بڑے بڑے کاروبار اورتجارت کررہی ہے،اسی طرح عوام کے ساتھ ساتھ دونوں مماک کے درمیان تجارتی رابطے استوارہیں۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان افغانستان کیلئے سب سے بڑاتجارتی شراکت دارملک TDAP ہے جہاں افغانستان میں پیداہونے والی اشیاءبرآمد کی جارہی ہیں جن کی مالیت کئی سوملین ڈالر ہے۔ اسی طرح افغانستان پاکستان کی اشیاءکیلئے چوتھی بڑی برآمدی منڈی ہے، سال 2014ءسے قبل افغانستان کیلئے پاکستان سب سے بڑا برآمدی ملک تھا تاہم تاہم بعدازاں پاکستان سے یہ پوزیشن ایران جیسے دیگرممالک نے حاصل کرلی۔ افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمینٹ، چینی اورچاﺅل شامل ہیں، افغانستان کو زیادہ پاکستانی برآمدات کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں اشیاءکی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اور اخراجات میں نمایاں بچت ہوجاتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں آپس میں ملی ہیں جن کا فائدہ افغانستان کی حکومت اورعوام کو پہنچ رہاہے۔

بدقسمتی سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں بعض مسائل بھی حائل ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ غیرقانونی تجارت ہے، پاکستان نے اس غیرقانونی تجارت کے خاتمہ کیلئے بعض اقدامات بھی کئے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان طورخم اورچمن بارڈر جیسی راہداریاں بھی ہیں جہاں قانونی طریقے سے تجارت ہوتی ہے،پاکستان اورافغانستان دونوں نے باہمی تجارت میں وسعت، تاجروں کوآسانیوں کی فراہمی اوردیگرمسائل کے حل کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں اوروقتاً فوقتاً اس کا جائزہ بھی لیتی رہتے ہیں۔ اس ضمن میں .pajcci دونوں ممالک کے تاجروں پرمشتمل پاک افغان مشترکہ ایوان صنعت وتجارت کا قیام بھی عمل میں لایا گیاہے

پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت کو بہت اہمیت دے رہاہے اوراس ضمن میں پاکستان نے کئی عملی اقدامات بھی کئے ہیں جس کا اندازہ گزشتہ سال 18 ستمبرکووزیراعظم عمران خان pm-inaugurates کی جانب سے طورخم بارڈر ٹرمینل کوہفتے کے سات روز 24 گھنٹے کھلارکھنے کے احکامات سے بھی ہوتاہے۔ appcsocialmedia

دریں اثناءپاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر15جولائی سے واہگہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغان برآمدات بحال کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں کووڈ۔19سے متعلق تمام پروٹوکولز پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے تمام بارڈرکراسنگ ٹرمینلز پر کووڈ۔19سے قبل کی سٹیٹس کے تحت افغان ٹرانزٹ میں سہولت اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت دو طرفہ تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت سمیت تمام شعبوں میں اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اوراے پی ٹی ٹی اے کے تحت افغانستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت دینے کیلئے پر عزم ہے۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سارک چیمبر کے صدر افتخار علی ملک نے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی تباہ کن وبا کے دوران حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ انتہائی مثبت ہے جس سے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت بحال کرتے ہوئے کوویڈ19- سے قبل کے حالات کے مطابق تمام 18 سرحدی پوائنٹس پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دیدی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان State Bank کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں 33.40 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ اس عرصہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 825.63 ملین ڈالررہا جو مالی سال 2018-19ءکے اسی عرصہ کے مقابلے میں 33.40 فیصد کم ہے، مالی سال 2018-19ءکے پہلے 11 ماہ میں افغانستان کوپاکستانی برآمدات کا حجم 1.101 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیاتھا۔اعدادوشمارکے مطابق رواں سال مئی میں افغانستان کو17.01 ملین ڈالرمالیت کی برآمدات کی گئی ، گزشتہ سال مئی میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 115.88 ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اسی طرح افغانستان سے درآمدات میں 36.79 فیصد کی کمی آئی ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں افغانستان سے درآمدات کاحجم 119.32 ملین ڈالرریکارڈکیا گیا۔ مالی سال 2018-19ءکی اسی مدت میں افغانستان سے 163.13 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئی تھیں۔

افغانستان کیلئے پاکستانی برآمدات کے مقابلے میں اگرچہ پاکستان کیلئے افغانستان کی درآمدات کا حجم کم ہے تاہم مجموعی طورپرگزشتہ مالی سال میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت کے حجم میں کمی آئی ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت میں کمی کیوں آئی؟ اس کے کئی عوامل ہوسکتے ہیں ، اس بارے میں جب پاک افغان جائنٹ چیمبرآف کامرس اورسرحد چیمبرآف کامرس sccip کے سابق صدر وفرنٹئیرکسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر ضیاءالحق سرحدی Ziaul-haq-sarhadi سے استفسارکیا توانہوں نے بتایا کہ پاک افغان تجارت کو اس وقت مسائل کاسامنا ہے اورباہمی تجارت میں بھی کمی آئی ہے، انہوں نے کہاکہ ایک وقت میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت کا حجم 2.5 ارب ڈالرتک پہنچ گیاتھا جس کے بعد اس میں بتدریج کمی آتی گئی جن کے کئی ساری وجوھات ہیں، اگرموجودہ صورت حال کاجائزہ لیا جائے تو جس طرح کورونا وائرس کی عالمگیروباءنے ساری دنیاءکی معیشتوں کوشدیدطورپرمتاثرکیاہے وہیں اس سے پاکستان اورافغانستان کی معیشیتیں بھی متاثرہوئی ہیں۔
ضیاءالحق سرحدی نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں بندہونے کی وجہ سے بھی کئی مسائل پیداہوتے ہیں، کچھ عرصہ قبل بھی پاک افغان سرحد بند ہوئی تھی جس کے بعدوزیراعظم عمران خان نے پاک افغان سرحدکو24 گھنٹے کھلے رکھنے کااعلان کیا ، اس اعلان کے بعددونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بہتری آئی تاہم اس کے بعدکورونا وائرس کی وباءکی وجہ سے یہ صورتحال خراب ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق معاملات محکمہ کسٹمز، انتظامیہ اورخیبرایجنسی میں تعینات پولیٹکل ایجنٹ طے کرتا تھا جب سابق فاٹاکو خیبرپختونخوامیں ضم کردیا گیا تو پولیٹکل ایجنٹ کا کردارختم ہوگیا، ہونا تو یہ چاہئیے یہ تھا کہ سارے انتظامات ڈپٹی کمشنر خیبر کے ہاتھ میں ہوتے تاہم اس کے برعکس وہاں پرڈپٹی کمشنرتوہے لیکن سارے اختیارات ڈی پی او نے سنبھال لئے ہیں۔کسٹمز کے علاوہ وہاں کے سرحدی انتظام وانصرام میں کئی دیگر محکمے بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے بھی تجارت متاثرہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان تجارت سے متعلق معاملات کو کئی محکموں کی بجائے ایک محکمہ کو دیکھنا چاہئیے ، اس کے ساتھ ساتھ راستے کی رکاوٹوں کو دورکرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نہ صرف استحکام آئیگا بلکہ اس میں خاطرخواہ اضافہ بھی ہوسکتاہے۔انہوں نے حکومت سے اس حوالہ سے خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں تیزی لائے جاسکے جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی بلکہ اس سے عوام اورحکومتوں کیلئے خوشیوں کی نوید بھی آئیگی۔
پاکستان اورافغانستان کے عوام کے درمیان تجارت اورتجارتی روابط نئے نہیں بلکہ یہ صدیوں سے استوارہیں، دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت کے بارے میں سرحدچیمبرآف کامرس کے سابق صدر حاجی محمدافضل Haji Muhammad Afzal نے کہاکہ جب بھی امن وامان یا دہشت گردی کی وجہ سے چمن اورطورخم سرحد بندہوجاتی ہیں توافغانستان کے عوام کیلئے خوراک سمیت کئی دیگرمسائل پیداہوتے ہیں، اسی وجہ سے افغانستان نے ایران کی سرحد اوربندرگاہوں کااستعمال بڑھادیاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان باہمی تجارت کی اپنی اپنی صورتحال ہے یقینی طورپردونوں برادرممالک ہیں ، دونوں ممالک کے سماجی اوراقتصادی حالات بھی ایک جیسے ہیں، دونوں ممالک صدیوں سے کاروباری روابط میں منسلک ہیں ،اگر ایک طرف پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کیلئے افغانستان کی ضرورت ہے تودوسری طرف افغانستان کے پاس سمندرنہیں ہے اوراسے سب سے زیادہ پاکستان کی ضرورت ہے۔
حاجی محمد افضل نے کہاکہ پاک افغان تجارت میں جومسائل ہیں ان میں آئے روز سرحدوں کی بندش سب سے بڑا مسئلہ ہے، محدودپیمانہ پرٹرکوں کوبرآمد کی اجازت بھی ایک اہم مسئلہ ہے، یہ وہ حالات ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مشکلات اوررکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان مسائل کا مستقل حل ضروری ہے، تاجروں کے لئےآسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، چیکنگ کا نظام خودکاربنانا ہوگا،سکریننگ کے زریعہ چیکنگ کانظام اتناشفاف بنانا ہوگا کہ نہ صرف بڑی تعدادمیں درآمد وبرآمد ہوں بلکہ ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت دیگراموربھی آسان بنائے جاسکے۔اس سے نہ صرف پاکستان اورافغانستان کی اقتصادی حالت میں بہتری آئیگی بلکہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی ختم ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کی صورت حال بھی اس صورت میں بہترہوسکتی ہے اگرسرحدکے دونوں اطراف میں رہنے والے لوگ خوشحال ہوں اور کاروبارکے ذریعہ آمدنی کا حصول ہو تو لوگ دیگرسرگرمیوں پرتوجہ نہیں دیتے ۔ ہمیں ان معاملات کوگہری نظرسے دیکھنا اوراس بارے سوچنا ہوگا۔








