اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنیک) نے ملک کے مختلف حصوں میں 289 ارب روپے مالیت کی قومی شاہراہوں کی تعمیرکے چارمنصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ ایکنیک کااجلاس جمعرات کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں ان منصوبوں کاجائزہ لیا گیا اور ان پرپرعمل درآمد کی منظوری دی گئی ۔ ان منصوبوں میں 165.679 …
مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت ایکنیک کا اجلاس ملک کے مختلف حصوں میں 289 ارب روپے مالیت کی قومی شاہراہوں کی تعمیرکے چارمنصوبوں کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنیک) نے ملک کے مختلف حصوں میں 289 ارب روپے مالیت کی قومی شاہراہوں کی تعمیرکے چارمنصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ ایکنیک کااجلاس جمعرات کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں ان منصوبوں کاجائزہ لیا گیا اور ان پرپرعمل درآمد کی منظوری دی گئی ۔ ان منصوبوں میں 165.679 ارب روپے کی لاگت سے 306 کلومیٹرطویل حیدرآبادسکھرموٹروے، 77.907 ارب روپے کی لاگت سے 47.55 کلومیٹرطویل خیبرپاس اقتصادی راہداری، ایم 8 پراجیکٹ کے 146 کلومیٹرطویل ہوشاب آوران خضدارسیکشن کی تعمیر، اور سوات موٹروے فیزٹوکیلئے اراضی کے حصول کامنصوبہ شامل ہے جس پر20 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔ حیدرآباد سکھرموٹروے پراجیکٹ بی اوٹی کی بنیادپرپایہ تکمیل کو پہنچایا جائیگا، چھ لین کی یہ وسیع موٹروے موثراور محفوظ نقل وحمل کیلئے تیارکی جائیگی، یہ موٹروے ایم نائن کے اختتام پرحیدرآبادسے شروع ہوگی اورسکھرملتان موٹروے کے اختتامی مقام کھاروپرایم فائیوسے ملی گی۔ یہ موٹروے جامشورو، ٹنڈومحمد خان، ہالہ، شہدادپور، نوابشاہ، مورو، دادو، نوشہروفیروز، محراب پور، رسول پور، لاڑکانہ، خیرپور اورسکھر سے گزری گی ۔ خیبرپاس اقتصادی راہداری (کے پیک) دوعناصر یعنی پشاورطورخم موٹروے اور موٹروے سے بڈہ بیرتک لنک روڈ پرمشتمل ہے۔ منصوبہ کے تحت پشاورسے طورخم تک 47.55 کلومیٹرطویل 4 لین کی ڈوول کیرج وے تعمیرکی جائیگی، پشاورطورخم موٹروے کا پراجیکٹ پشاور،جلال آباد کابل موٹروے پراجیکٹ کا حصہ ہے۔منصوبہ کے تحت پلوں، انٹرچینجز، فلائی اوورز، انڈرپاسز، کلورٹس، کیٹل کریپ کی تعمیر اور ڈرینج ورک کے اقدامات کئے جائیں گے۔ایم 8 پر ہوشاب، آواران، خضدارسیکشن منصوبہ کے تحت 146 کلومیٹرطویل روڈ تعمیر کی جائیگی، اس وقت ہوشاب سے آواران تک موٹرایبل ٹریک موجود ہے جو سی اینڈ ڈبلیو بلوچستان کے انتظامی کنٹرول کے تحت آتاہے، اس منصوبہ کی نوک پلک سنوارنے میں پہلے سے موجود روٹ کی بیشترمقامات پرپاسداری کی گئی ہے، منصوبہ کے تحت سڑک ہوشاب سے شروع ہوگی اورقلعہ درویش، آشال، ڈندر، سحرقلات، گوراری، لال جان، دودر،رضائی، نردین، مدک، مالار، لاباچ دارگوم سے ہوتی ہوئی آواران پرختم ہوگی، منصوبہ میں 100میٹررائٹ آف وے کیلئے 29200 کنال کی اراضی اورسہولیات کی ری لوکیشن بھی شامل ہیں۔سوات موٹروے فیز تو منصوبہ کے تحت چکدرہ سے فتح پورتک 79.69 کلومیٹرطویل 4 لین کے موٹروے کیلئے 10 ہزارکنال اراضی حاصل کی جائیگی۔ یہ سوات ایکسپریس وے کی توسیع کا سلسلہ ہے، اس منصوبہ کیلئے رائٹ آف وے 50میٹرتجویز کیا گیاہے۔








