سینیٹر روبینہ خالد کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس، آن لائن تعلیم کے حصول میں طلباء کو درپیش انٹرنیٹ کنیکٹوٹی کے مسائل پر غور، اعلیٰ تعلیمی شعبہ کے بجٹ میں ضروریات کے مطابق اضافہ کی سفارش

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اعلیٰ تعلیمی شعبہ کے بجٹ میں ضروریات کے مطابق اضافہ کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں آن لائن تعلیم کے حصول میں طلباء کو درپیش انٹرنیٹ کنیکٹوٹی کے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔ اجلا س میں کمیٹی اراکین …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اعلیٰ تعلیمی شعبہ کے بجٹ میں ضروریات کے مطابق اضافہ کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں آن لائن تعلیم کے حصول میں طلباء کو درپیش انٹرنیٹ کنیکٹوٹی کے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔ اجلا س میں کمیٹی اراکین کے علاوہ چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر فتح مری، ریکٹر نیشنل اکیڈیمی آف ہائیر ایجوکیشن ڈاکٹر شاہین سردار علی، وائس چانسلرز، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اور یونیورسل سروس فنڈ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی نے کمیٹی کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں لرننگ مینجمنٹ سسٹم پر عملدرآمد کے حوالہ سے ایچ ای سی کے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے سبب جامعات کی بندش کے ساتھ ہی ایچ ای سی نے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کیلئے اپنی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن تعلیم کے حصول میں دو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں ایک یہ کہ پاکستانی جامعات کے فیکلٹی اراکین آن لائن تدریس کا پس منظر نہیں رکھتے اور دوسری یہ کہ طلباء کو انٹرنیٹ تک رسائی کے مسائل کا سامنا رہا۔ انہوں نے فیکلٹی کے لیکچرز اور ان کی آن لائن تدریس کے معیار میں بہتری کیلئے فیکلٹی کی تربیت کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایچ ای سی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی وساطت سے ٹیلی کام کمپنیوں سے رابطے میں رہا تاکہ طلباء کو رعایتی انٹرنیٹ پیکیج مہیا کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپینیاں اب طلباء پیکج پیش کر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایچ ای سی نے حکومت کو مختلف مقامات پر ڈاٹا سنٹرز کے قیام کی سفارش کی ہے تاکہ دوردراز کے طلباء کو اُن کے ذریعے معلومات دستیاب کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم طلباء کیلئے اضافی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ ای سی نے جامعات کو کرونا سے پیدا شدہ حالات کے پیش نظر تفصیلی پالیسی گائیڈ لائنز فراہم کی ہیں۔ وائس چانسلرز نے آن لائن تعلیم کے فروغ کیلئے کی جانے والی کاوشوں پر روشنی ڈالی اور اس سلسلہ میں ایچ ای سی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے جامعات کو درپیش مالی مشکلات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اور یونیورسل سروس فنڈ کے نمائندگان نے اُن کی طرف سے انٹرنیٹ کنیکٹوٹی کو یقینی بنانے کیلئے کی جانے والی کوششوں سے کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا۔ جامعات کو درپیش مالی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینٹر روبینہ خالد نے اعلیٰ تعلیمی شعبہ کی فنڈنگ میں فوری اضافہ کرنے پر زور دیا اور اس معاملہ کو سینٹ اجلاس میں اٹھانے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبہ کو ضروریات کے مطابق فنڈز مہیا کئے جانے چاہئیں۔ سینٹ کمیٹی نے انٹرنیٹ ڈیوائسز اور دیگر آلات کی قیمتوں کے حوالہ سے تجویز دی کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو مل کر طلباء کو کم قیمت آلات کی دستیابی کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیں۔ کمیٹی نے سکولوں اور کالجوں میں بھی آن لائن تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ اعلٰی تعلیمی شعبے میں کی جانے والی کاوشوں سے سکول اور کالج کی تعلیم میں بھی فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ ہر سطح پر آن لائن سیکھنے کے عمل کو ترویج دی جائے۔

مزید خبریں