پاکستان افغانستان کا سب سے بڑاتجارتی شراکت دارملک ہے ، افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمنٹ، چینی اورچاول شامل ہیں، افغانستان کو پاکستانی برآمدات کی بڑی وجہ اشیاء کی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اوراخراجات میں نمایاں بچت ہے، پاک افغان تجارت کے مختلف پہلوئوں پرمحمد عامرآفریدی،طارق عزیز کی جائزہ رپورٹ

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) پاکستان افغانستان کا سب سے بڑاتجارتی شراکت دارملک ہے، افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمنٹ، چینی اورچاول شامل ہیں، افغانستان کو پاکستانی برآمدات کی بڑی وجہ اشیاء کی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اوراخراجات میں نمایاں بچت ہے،اسی طرح افغان اشیاء کی برآمد کئی سوملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، باہمی تجارت کے حوالے سے اس وقت …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) پاکستان افغانستان کا سب سے بڑاتجارتی شراکت دارملک ہے، افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمنٹ، چینی اورچاول شامل ہیں، افغانستان کو پاکستانی برآمدات کی بڑی وجہ اشیاء کی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اوراخراجات میں نمایاں بچت ہے،اسی طرح افغان اشیاء کی برآمد کئی سوملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، باہمی تجارت کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ غیرقانونی تجارت ہے، پاکستان نے اس غیرقانونی تجارت کے خاتمہ کیلئے کئی اقدامات کئے، پاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر15جولائی سے واہگہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغان برآمدات بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ تجارت کے مفہوم اورپاک افغان تجارت کے ایک جائزہ کے مطابق افراد، کمپنیوں وفرمز، ممالک اوراقوام کے درمیان اشیاء اورخدمات کی فروخت یا تبادلہ کے عمل کو تجارت کہتے ہیں۔ ممالک کے درمیان خریدوفروخت کے عمل کیلئے ایک خاص طریقہ کارکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے دویا دوسے زائد ممالک کے درمیان معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تجارت اورتجارتی راستوں سے نہ صرف رکاوٹیں دورکرے بلکہ تاجروں اورسرمایہ کاروں کو سہولیات، آسانیاں اوراعتماد بھی دیں۔ دوممالک کے درمیان مشترکہ تجارت میں اضافہ سے دونوں ممالک اورعوام کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے تاہم ممالک کے درمیان تجارت میں آسانیوں اورسہولیات کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل اورمشکلات بھی ہوتی ہیں جن کاجائزہ متعلقہ حکومتیں وقتاً فوقتاً لیتی ہیں اور محفوظ ماحول، سرمایہ کاتحفظ وضمانت ، راہداری کی سہولیات ، اشیاء کی درآمد وبرآمد کیلئے ٹرانسپورٹ ، سرحدوں اورویزوں کے اجراء کے اہم عمل کو آسان بنانے سمیت مختلف اقدامات کرتی ہیں۔عصر حاضرمیں جب دنیاء ایک عالمگیر گائوں میں تبدیل ہوئی ہے،فاصلے کم ہوگئے ہیں اوروقت کی رفتار بھی تیز تر ہے ایسے میں انسانی سوچ وفکراورتجارت کے طوروطریقے بھی تبدیل ہوگئے ہیں، ٹیکنالوجی میں جدت سے دنوں میں ہونے والے کام اب گھنٹوں اورمنٹوں میں ہورہے ہیں ، ٹیکنالوجی کی جدت اورسہولیات سے پہلے اوراب بھی انسانی جبلت کے تحت تاجروسرمایہ کار دورپارممالک کی بجائے اپنے پڑوسی علاقوں یا ممالک کے ساتھ تجارت کو ترجیح دیتے چلے آرہے ہیں۔پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کے کئی فوائد ہیں جن میں امن وامان کی بہتری، قریبی تعلقات ، قومی دفاع اورسلامتی کا تحفظ شامل ہیں۔ پاکستان اورافغانستان بھی قریبی پڑوسی اوربرادرممالک ہیں جو زبان، ثقافت کے ساتھ ساتھ مشترکہ مذہب اورتاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان محبت اوربھائی چارے کے تعلقات اتنے مضبوط اوربااعتماد ہیں کہ جب 1979ئ میں روس نے افغانستان پرحملہ کیا تودیگرممالک کے برعکس افغان شہریوں نے بڑی تعدادمیں پاکستان کا رخ کیا جہاںانہوں نہ صرف عزت اوروقار کے ساتھ زندگی گذاری بلکہ آج بھی افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں بڑے بڑے کاروبار اورتجارت کررہی ہیں،اسی طرح عوام کے ساتھ ساتھ دونوں مماک کے درمیان تجارتی رابطے استوارہیں۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان افغانستان کیلئے سب سے بڑاتجارتی شراکت دارملک ہے جہاں افغانستان میں پیداہونے والی اشیاء برآمد کی جارہی ہے جن کی مالیت کئی سوملین ڈالر ہے اسی طرح افغانستان پاکستان کی اشیاء کیلئے چوتھی بڑی برآمدی منڈی ہے، سال 2014سے قبل افغانستان کیلئے پاکستان سب سے بڑا برآمدی ملک تھا تاہم تاہم بعدازاں پاکستان سے یہ پوزیشن ایران جیسے دیگرممالک نے حاصل کی۔ افغانستان کو پاکستان کی اہم برآمدات میں گندم، سیمینٹ، چینی اورچاول شامل ہیں، افغانستان کو زیادہ پاکستانی برآمدات کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں اشیاء کی ترسیل میں دیگرممالک کے مقابلہ میں وقت اوراخراجات میں نمایاں بچت ہوجاتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں آپس میں ملی ہیں جس کا فائدہ افغانستان کی حکومت اورعوام کو پہنچ رہاہے۔ بدقسمتی سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی راہ میں بعض مسائل بھی درپیش ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ غیرقانونی تجارت ہے، پاکستان نے اس غیرقانونی تجارت کے خاتمہ کیلئے بعض اقدامات بھی کئے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان طورخم اورچمن بارڈر جیسی راہداریاں بھی ہیں جہاں قانونی طریقے سے تجارت ہوتی ہے،پاکستان اورافغانستان دونوں نے باہمی تجارت میں وسعت، تاجروں کوآسانیوں کی فراہمی اوردیگرمسائل کے حل کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں اوروقتاً فوقتاً اس کا جائزہ بھی لیتی رہی ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے تاجروں پرمشتمل پاک افغان مشترکہ ایوان صنعت وتجارت کا قیام بھی عمل میں لایا گیاہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت کو بہت اہمیت دے رہاہے اوراس ضمن میں پاکستان نے کئی عملی اقدامات بھی کئے ہیں جس کا اندازہ گزشتہ سال 18 ستمبرکووزیراعظم عمران خان کی جانب سے طورخم بارڈر ٹرمینل کوہفتے کے سات روز 24 گھنٹے کھلارکھنے کے احکامات سے بھی ہوتاہے۔ دریں اثناء پاکستان نے افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر15جولائی سے واہگہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغان برآمدات بحال کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں کووڈ۔19سے متعلق تمام پروٹوکولز پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے تمام بارڈرکراسنگ ٹرمینلز پر کووڈ۔19سے قبل کی سٹیٹس کے تحت افغان ٹرانزٹ میں سہولت اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت دو طرفہ تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت سمیت تمام شعبوں میں اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اوراے پی ٹی ٹی اے کے تحت افغانستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت دینے کیلئے پر عزم ہے۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سارک چیمبر کے صدر افتخار علی ملک نے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی تباہ کن وبا کے دوران حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ انتہائی مثبت ہے جس سے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت بحال کرتے ہوئے کوویڈ۔ 19 سے قبل کے حالات کے مطابق تمام 18 سرحدی پوائنٹس پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دیدی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں 33.40 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ اس عرصہ مین افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 825.63 ملین ڈالررہا جو مالی سال 2018-19ء کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 33.40 فیصد کم ہے، مالی سال 2018-19ء کے پہلے 11 ماہ میں افغانستان کوپاکستانی برآمدات کا حجم 1.101 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اعداد و شمارکے مطابق رواں سال مئی میں افغانستان کو17.01 ملین ڈالرمالیت کی برآمدات کی گئی، گزشتہ سال مئی میں افغانستان کو پاکستانی برآمدات کا حجم 115.88 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اسی طرح افغانستان سے درآمدات میں 36.79 فیصد کی کمی آئی ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں افغانستان سے درآمدات کاحجم 119.32 ملین ڈالرریکارڈکیا گیا۔ مالی سال 2018-19ء کی اسی مدت میں افغانستان سے 163.13 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئی تھیں۔ ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں پرنظررکھنے والے بین الاقوامی ادارہ ٹریڈنگ اکنامکس کی طرف سے جولائی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق سال 2019ء میں افغانستان سے پاکستان کو 579.53 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئی جن میں 175.25 ملین ڈالرمالیت کے پھل ومیوہ جات اور155.14 ملین ڈالرمالیت کی سبزیاں شامل تھیں۔اسی طرح گزشتہ سال افغانستان سے 91.14 ملین ڈالرکی معدنیات وتیل، 57.87 ملین ڈالرکاٹن اور32.78 ملین ڈالرمالیت آئرن اورسٹیل بھی درآمد کیا گیا۔ افغانستان کیلئے پاکستانی برآمدات کے مقابلے میں اگرچہ پاکستان کیلئے افغانستان کی درآمدات کا حجم کم ہے تاہم مجموعی طورپرگزشتہ مالی سال میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت کے حجم میں کمی آئی ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت میں کمی کیوں آئی؟ اس کے کئی عوامل ہوسکتے ہیں ، اس بارے میں جب پاک افغان جائنٹ چیمبرآف کامرس اورسرحد چیمبرآف کامرس کے سابق صدر وفرنٹئیرکسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر ضیائ الحق سرحدی سے استفسارکیا توانہوں نے بتایا کہ پاک افغان تجارت کو اس وقت مسائل کاسامنا ہے اورباہمی تجارت میں بھی کمی آئی ہے، انہوں نے کہاکہ ایک وقت میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت کا حجم 2.5 ارب ڈالرتک پہنچ گیاتھا جس کے بعد اس میں بتدریج کمی آتی گئی جن کے کئی ساری وجوہات ہیں، اگرموجودہ صورت حال کاجائزہ لیا جائے تو جس طرح کورونا وائرس کی عالمگیروباء نے ساری دنیا کی معیشتوں کو شدید طور پر متاثرکیاہے وہیں اس سے پاکستان اورافغانستان کی معیشیتیں بھی متاثرہوئی ہیں،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں بندہونے کی وجہ سے بھی کئی مسائل پیداہوتے ہیں، کچھ عرصہ قبل بھی پاک افغان سرحد بند ہوئی تھی جس کے بعدوزیراعظم عمران خان نے پاک افغان سرحدکو24 گھنٹے کھلے رکھنے کااعلان کیا ، اس اعلان کے بعددونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بہتری آئی تاہم اس کے بعدکورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے یہ صورتحال خراب ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پہلے دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق معاملات محکمہ کسٹمز، انتظامیہ اورخیبرایجنسی میں تعینات پولیٹکل ایجنٹ طے کرتا جب سابق فاٹاکو خیبرپختونخوامیں ضم کردیا گیا تو پولیٹکل ایجنٹ کا کردارختم ہوا، ہونا یہ چاہئیے یہ تھا کہ سارے انتظامات ڈپٹی کمشنر خیبر کے ہاتھ میں ہوتے تاہم اس کے برعکس وہاں پرڈپٹی کمشنرتوہے لیکن سارے اختیارات ڈی پی اونے سنبھال لئے ہیں۔کسٹمز کے علاوہ وہاں کے سرحدی انتظام وانصرام میں کئی دیگر محکمے بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے بھی تجارت متاثرہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان تجارت سے متعلق معاملات کو کئی محکموں کی بجائے ایک محکمہ کو دیکھنا چاہئیے ، اس کے ساتھ ساتھ راستے کی رکاوٹوں کو دورکرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نہ صرف استحکام آئیگا بلکہ اس میں خاطرخواہ اضافہ بھی ہوسکتاہے۔انہوں نے حکومت سے اس حوالہ سے خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں تیزی لائے جاسکے جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی بلکہ اس سے عوام اورحکومتوں کیلئے خوشیوں کی نوید بھی آئیگی۔ پاکستان اورافغانستان کے عوام کے درمیان تجارت اورتجارتی روابط نئے نہیں بلکہ یہ صدیوں سے استوارہیں، دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت کے بارے میں سرحدچیمبرآف کامرس کے سابق صدر حاجی محمدافضل نے کہاکہ جب بھی امن وامان یا دہشت گردی کی وجہ سے چمن اورطورخم سرحد بندہوجاتی ہیں توافغانستان کے عوام کیلئے خوراک سمیت کئی دیگرمسائل پیداہوتے ہیں، اسی وجہ سے افغانستان نے ایران کی سرحد اوربندرگاہوں کااستعمال بڑھادیاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان باہمی تجارت کی جو صورتحال ہے تو یقینی طورپردونوں برادرممالک ہیں ، دونوں ممالک کے عوامی اوراقتصادی حالات بھی ایک جیسے ہیں، دونوں ممالک صدیوں سے کاروباری روابط میں منسلک ہیں ،اگر ایک طرف پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کیلئے افغانستان کی ضرورہے تودوسری طرف افغانستان کے پاس سمندرنہیں ہے اوراسے سب سے زیادہ پاکستان کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاک افغان تجارت میں جومسائل میں ان میں آئے روز سرحدوں کی بندش سب سے بڑا مسئلہ ہے، محدودپیمانہ پرٹرکوں کوبرآمد کی اجازت بھی ایک اہم مسئلہ ہے، یہ وہ حالات ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مشکلات اوررکاوٹیں پیدا کرہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان مسائل کا مستقل حل ضروری ہے، تاجروں کوآسانیاں فراہم کرنا ہوگی، چیکنگ کا نظام خودکاربنانا ہوگا،سکریننگ کے زریعہ چیکنگ کانظام اتناشفاف بنانا ہوگا کہ نہ صرف بڑی تعدادمیں درآمد وبرآمد ہوں بلکہ ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت دیگراموربھی آسان بنائے جاسکے۔اس سے نہ صرف پاکستان اورافغانستان کی اقتصادی حالت میں بہتری آئیگی بلکہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی ختم ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کی صورت حال بھی اس صورت میں بہترہوسکتی ہے اگرسرحدکے دونوں اطراف میں رہنے والے لوگ خوشحال ہوں، کاروبارکے ذریعہ آمدنی کے حصول سے لوگ دیگرکاموں پرتوجہ نہیں دیتے۔ ہمیں ان معاملات کوگہری نظرسے دیکھنا اوراس بارے سوچنا ہوگا۔

مزید خبریں