سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ٹاسک فورسز کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغانستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی قائم کردہ ٹاسک فورسز کا اجلاس ہوا۔ ٹاسک فورسز نے پاکستان اور افغانستان کے مابین عوامی رابطوں اور تجارتی معاملات پر اثر انداز ہونے والے امور کے بارے میں غور کیا۔ اس سلسلہ میں ان امور کے حل کیلئے متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔ ٹاسک …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پاک افغانستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی قائم کردہ ٹاسک فورسز کا اجلاس ہوا۔ ٹاسک فورسز نے پاکستان اور افغانستان کے مابین عوامی رابطوں اور تجارتی معاملات پر اثر انداز ہونے والے امور کے بارے میں غور کیا۔ اس سلسلہ میں ان امور کے حل کیلئے متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔ ٹاسک فورسز نے افغانستان جانے والے کنٹینر ٹریفک کو معمول پر لانے، بارڈر ٹریڈ اور ویزا کے اجراء کو سہل بنانے اور کنٹینرز کی ٹریکنگ اور سکیننگ سے پاکستان آمد اور روانگی کے بارے میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لئے اگلے ہفتے ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان جنہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کی خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی، نے باڑہ اسٹیجنگ ایریا پر کنٹینروں کی جلد کلیئرنس کو یقینی بنانے کے لئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں متعدد مقامات پر پھنسے 8000 سے زیادہ کنٹینرز کو کوویڈ سے پہلے کے طریقہ کار کا دوبارہ استعمال کرکے جلد از جلد کلیر کیا جائے گا۔ اجلاس میں پاک افغان بارڈر پر مسائل کے حل کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے چمن بارڈر بند ہونے پر احتجاج کے معاملہ پر ہنگامی اجلاس بھی طلب کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس سلسلہ میں امور پر تبادلہ خیال کے لئے متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاسوں میں وزیر دفاع پرویز خٹک، کے پی کے کے وزیراعلیٰ محمود خان ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد، پارلیمنٹ کے ممبران، پاکستان کے افغانستان کے لئے وزیراعظم کے خصوصی مندوب، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور متاثرہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ یہ ٹاسک فورسز پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی مفاد کے لئے عوامی اور تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کے وڑن کے عین مطابق ہیں۔ پارلیمانی دوستی گروپوں کا بنیادی مقصد پاکستان اور دیگر دوست ریاستوں کے مابین موجود خوشگوار تعلقات کو بڑھانا ہے۔ ان ٹاسک فورسز کا قیام افغانستان جانے والے کنٹینر ٹریفک کی کلیئرنس، افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت اور ویزا کے جلد اجراہ میں حائل مشکلات کا جائزہ لینے، افعانستان سے درآمد کئے گئے مال پر کسٹم ڈیموریج کے معاملات اور پاکستان آمد اور روانگی کے وقت کنٹینرز کی ٹریکنگ اور سکیننگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے اور ان کے راستے میں حائل مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔

مزید خبریں