اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی، بھارت کی بدنیتی سامنے آ گئی، یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے، کلبھوشن بھارتی سفارتکاروں کو پکارتا رہا اور وہ چلے گئے۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ویانا کنونشن کے …
بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی، عالمی سطح پر بھارت کو ناکامیوں کا سامنا ہے، ہندوتوا سوچ برقرار رہی تو بھارت سے بہتری کی توقع نہیں کر سکتے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی، بھارت کی بدنیتی سامنے آ گئی، یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے، کلبھوشن بھارتی سفارتکاروں کو پکارتا رہا اور وہ چلے گئے۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت بھارتی سفارتکاروں کو ”را” کے جاسوس کلبوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دی گئی۔ قونصلررسائی کی ضرورت کے مطابق تمام اقدامات اٹھائے۔ جو بات طے ہوئی تھی اس کے تحت قونصلر رسائی دی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا، انہیں درمیان میں شیشے پر اعتراض تھا، وہ بھی ہٹایا، بھاری سفارکاروں نے پھر ویڈیو ریکارڈ پر اعتراض کیا وہ بھی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی سفارتکاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھربھی وہ چلے گئے۔ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا۔ کلبھوشن باربار سفارتکاروں کو پکارتا رہا لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور وہ چلے گئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔ بھارت کی بدنیتی سامنے آ گئی یہ قونصلررسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن بھارتی سفارتکاروں سے کہتا رہا مجھ سے بات کریں لیکن سفارتکار چلتے بنے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر بھارتی سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو اپنے منہ سے دہشت گردی کا اعتراف کر چکا ہے، ہم نے عالمی عدالت کے فیصلے کو قبول کیا لیکن بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا ہے اس نے کبھی تعاون نہیں کیا، ہماری سوچ مثبت ہے ہمیشہ حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں، ہم قانون کے دائرے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت میں انتہا پسند طبقہ کی حکومت ہے، انسانی تقاضوں اور قانون کو نہیں دیکھتا، بھارتی انتہا پسند حکومت اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ چین نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی بہت کوشش کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی انتہا پسند حکومت نے چین کو بھی نہیں بخشا، بھارت نے بنگلہ دیش کو بھی نشانہ بنایا، سری لنکا سے رویہ بھی سامنے ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے، عالمی سطح پر بھارت کو ناکامیوں کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوتوا سوچ برقرار رہی تو بھارت سے بہتری کی توقع نہیں کر سکتے۔








