اسلامی نظریاتی کونسل ایک آزاد آئینی ادارہ ہے،مندر کی تعمیر کے حوالے سے حکومت کا اس پر کوئی دباو نہیں، وزارت مذہبی امور نے ہمیں خط لکھا ہے، جید علمائے کرام ومفتیان کرام کی آراء اور مسلمان حکمرانوں کے فیصلوں کی روشنی میں جامع رپورٹ تیار کی جائے گی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایازکی اے پی پی ویب ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آزاد آئینی ادارہ ہے،مندر کی تعمیر کے حوالے سے حکومت کا اس پر کوئی دباو نہیں، وزارت مذہبی امور نے ہمیں خط لکھا ہے،کونسل اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جید علمائے کرام ومفتیان کرام کی آراء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے …

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آزاد آئینی ادارہ ہے،مندر کی تعمیر کے حوالے سے حکومت کا اس پر کوئی دباو نہیں، وزارت مذہبی امور نے ہمیں خط لکھا ہے،کونسل اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جید علمائے کرام ومفتیان کرام کی آراء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر اب تک مسلمان حکمران کے فیصلوں کی روشنی میں ایک مکمل اور جامع رپورٹ تیار کرے گی ، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ان خیالات کا اظہار اے پی پی ویب ٹی وی کے پروگرام قرآن کا سفر میں میزبان سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تشکیل اور اس کے قیام کامقصد ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں اسلامی شرعی قوانین رائج ہوں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے فوری بعد, ادارہ برائے اسلامی تعمیر نو, کا قیام عمل میں لایا گیا جو اب اسلامی نظریاتی کونسل کی شکل میں گرانقدر کام کررہا ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل بنیادی طور پر بیس ارکان پر مشتمل آئینی ادارہ ہے جن میں ایک تہائی یعنی سات ارکان تمام مکاتب فکر کے نمائندہ انتہائی ممتاز علماء کرام ہوتے ہیں، دو ممبران کا تعلق اعلی عدلیہ سے ہوتا ہے، ایک خاتون ممبر بھی آئینی تقاضا ہے جبکہ دیگر اراکین بھی اسلامی قوانین کے ماہر اور ممتاز علمی شخصیات ہوتی ہیں، یہ کونسل جو سفارشات تیار کرتی ہے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی بھی معاملے پر رائے اور جائزہ ہوتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی اس بارے میں کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی البتہ کونسل کی رائے سامنے آنے کے بعد وہ کونسل کی اس رائے اور سفارشات کا ترجمان ہوتا ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ میرے گزشتہ تین سالہ دور میں اب تک تمام فیصلے اور آراء تمام مسالک کے علماء کرام کے اتفاق رائے سے سامنے آئے ہیں اور کبھی اختلافی نوٹ سامنے نہیں آیا,ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے مندر کی تعمیر کے بارے میں کونسل کی رائے لینے کیلئے ہمیں گزشتہ ہفتے خط بھیجا ہے، ادارہ اس حوالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر اب تک مسلمان حکمرانوں کے فیصلوں اور آراء کی روشنی میں ایک مکمل اور جامع رپورٹ تیار کرے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کسی دباؤ کے بغیر آزادانہ فیصلہ دے گی۔ یہ آئینی ادارہ ہے ہم پر کوئی دباو نہیں ہے. ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ امن ہماری بنیادی اور اہم ضرورت ہے تاکہ ملک معاشی طور پر مضبوط ہو اور قوموں کی برادری میں وطن عزیز باوقار مقام حاصل کرسکے۔

مزید خبریں