چیئرمین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کا پہلا اجلاس

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کے چیئرمین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمانی قیادت اتفاق رائے پر مبنی قانون سازی پر یقین رکھتی ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے اور مشاورت ہی ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنا سکتی ہے، حکومت اور حزب اختلاف مل کر …

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کے چیئرمین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمانی قیادت اتفاق رائے پر مبنی قانون سازی پر یقین رکھتی ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے اور مشاورت ہی ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنا سکتی ہے، حکومت اور حزب اختلاف مل کر عوام اور ملک کے مفاد میں قانون سازی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ کمیٹی نے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ءاور اقوام متحدہ (سلامتی کونسل) ترمیمی بل 2020ءپر تفصیلی بحث کی۔ کمیٹی ارکان کا مو¿قف تھا کہ زیر غور بلوں پر مزید بحث کی ضرورت ہے لہٰذا ان کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے مزید بحث کے لئے پیر کو دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے بعد چیئرمین کمیٹی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل پا چکی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی نمائندگی ہے، آج اس پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس میری صدارت میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن ممبران کا انتہائی مشکور ہوں کہ وہ اجلاس میں تشریف لائے اور اچھے ماحول میں ہماری گفتگو ہوئی جس میں ہم نے اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر مختلف قانونی امور پر تبادلہ خیال کرنے اور ان کا نکتہ نظر جان کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اہم قوانین جن پر ہم نے تبادلہ خیال کرنا ہے ان میں ایک نیب کا قانون ہے جس پر ہمارا ایک نکتہ نظر جبکہ اپوزیشن کا اپنا نکتہ نظر ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بلز ہیں جو زیر بحث آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالفین بالخصوص ہندوستان پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے، ہماری جب حکومت آئی تو پاکستان گرے لسٹ میں تھا، ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کو فاٹف کی گرے لسٹ سے نکالیں اس کے لئے ہم نے قانون سازی بھی کی ہے اور کچھ انتظامی نوعیت کے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ مزید قانون سازی کی ضرورت ہے جس کیلئے ہم نے مسودے تیار کر لئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کیلئے یہ طے پایا ہے کہ ہم کل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذریعے نیب کا مجوزہ ڈرافٹ اور ایف اے ٹی ایف قانون کے مسودہ جات معزز اراکین اپوزیشن کی خدمت میں پیش کر دیں گے تاکہ وہ تسلی سے انہیں پڑھ لیں اور پھر پیر کے روز 5 بجے اس پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہو گا جس میں ہم اس ایجنڈے کو آگے لے کر چلیں گے۔ اجلاس میں وفاقی وزراءپرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، سینیٹر شبلی فراز، شیریں مزاری اور ایم او ایس علی محمد خان، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان اور مرزا شہزاد اکبر، ایم این اے اور سینیٹرز ملک محمد عامر ڈوگر سمیت سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال چوہدری، راجہ پرویز اشرف، سیّد نوید قمر، شاہدہ اختر علی، شیری رحمان، فاروق حامد نائیک اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں