وزیراعظم عمران خان کا وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو گی، وزارت بحری امور کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کے لئے بین الوزارتی رابطے اور تمام …

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو گی، وزارت بحری امور کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کے لئے بین الوزارتی رابطے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مستقل مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت بحری امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر برائے صنعت محمد حماد اظہر، وزیر برائے بحری امور سیّد علی حیدر زیدی، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر وزیراعظم عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری اور سینئر افسران شریک تھے۔ وزیر برائے بحری امور سیّد علی حیدر زیدی نے اجلاس کو وزارت کی گذشتہ 22 ماہ کی کارکردگی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ورثہ میں ملنے والے مسائل اور مشکلات کے باوجود کئی نئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اجلاس کو ”بلیو اکانومی“ کے مجوزہ روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالہ سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر برائے بحری امور نے بتایا کہ ملک میں اس شعبہ کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود ماضی میں اس شعبہ کو نظرانداز کیا گیا۔ بلیو اکانومی کی ملک میں بے پناہ صلاحیت کے پیش نظر موجودہ حکومت اس شعبہ کی ترقی کے لئے روڈمیپ وضع کر رہی ہے جس پر عملدرآمد کی بدولت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روزگار ، سیاحت، قابل تجدید توانائی کے بھی بھرپور مواقع پیدا ہوں گے۔ اس امر کے پیش نظر وزیراعظم نے 2020ءکو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا ہے۔جامع شپنگ پالیسی 2019ءکی بدولت سرمایہ کاروں کو آسانی اور سہولیات کی فراہمی، 4.7 بلین روپے کے قرضے کی واپسی، 2 نئے آئل ٹینکرز کی فلیٹ میں شمولیت، وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیوں کی نیلامی، نئی بوٹ بیسن جیٹی کی فعالی، ڈراءبلک کارگو ٹرمینل کے لئے 11 کمپنیز کی شارٹ لسٹنگ، 2.2 بلین روپے کی ریکوری، پورٹ قاسم اتھارٹی کے منافع میں گزشتہ دو سال کے دوران ریکارڈ اضافہ، کوروناوائرس کی وبا کے باوجود 270 بحری جہازوں کی کارگو ہینڈلنگ، وزیراعظم کے گرین پاکستان وژن کی روشنی میں ایک ملین مینگروو پودوں کی جاری شجر کاری، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ماسٹر پلان کے لئے تفصیلی سٹڈی کی تکمیل، نئے ٹرمینلز کے قیام، انفراسٹرکچر کی بحالی و مجوزہ منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بھی شرکاءکو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو وزارت کی جانب سے مستقبل کے منصوبوں، خصوصاً گوادر بندرگاہ سے جڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ گوادر بندرگاہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو گی۔ وزیراعظم نے گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے وزارت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کے لیے بین الوزارتی رابطے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مستقل مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے مو¿ثر ترجیحات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ٹائم لائنز بھی متعین کی جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت بحری امور میں سرمایہ کاری اور ترقی کی بے پناہ صلاحیت کی بدولت ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن سے روزگار، علاقائی ترقی اور بھرپور منافع حاصل ہو۔

مزید خبریں