اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہکلبھوشن یادیو بارے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہیں کریں گے تو پاکستان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس بنایا گیا ہے‘ یہ حساس معاملہ ہے اس پرسیاست نہ کی جائے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے …
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا قومی اسمبلی سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہکلبھوشن یادیو بارے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہیں کریں گے تو پاکستان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس بنایا گیا ہے‘ یہ حساس معاملہ ہے اس پرسیاست نہ کی جائے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے حوالے سے ایوان میں بات ہوئی، اس آرڈیننس کے حوالے سے درست حقائق اپوزیشن کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اس کی کچھ تاریخیں بہت اہم ہیں۔3 مارچ 2016ءکو کلبھوشن کو گرفتار کیا جاتا ہے، اس وقت وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کو قونصلر رسائی نہیں دینی ہے۔8 مئی 2017ءکو بھارت نے آئی سی جے میں کیس فائل کردیا،پاکستان آئی سی جے سے باہر نہیں آ سکتا تھا،آئی سی جے فیصلہ دیتی ہے کہ قونصلر رسائی دینی چاہیے،آئی سی جے کے فیصلے کے مطابق آرڈینس بنایا گیا، این آر او وہ ہوتا ہے جو پرویز مشرف نے سزائیں معاف کردیں۔ اس آرڈیننس میں کوئی سزا معاف نہیں کی گئی۔ ہمیں عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ہے، اگر ایسا نہیں کرتے تو بھارت ہمارے خلاف جا کر پابندیاں لگوا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ہم سے یہ اعتراض کیا کہ آرڈیننس بنانے سے قبل ہمیں کیوں نہیں بتایا، یہ کہیں نہیں لکھا کہ آرڈیننس لانے سے قبل اپوزیشن سے پوچھیں۔ اس آرڈیننس کو تکیے کے نیچے رکھ کر کسی نے نہیں بنایا،سزا ختم آئی سی جے نے کی تو اس حکومت نے بھی نہیں کی، اگر سزا ختم کی گئی ہوتی تو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوکر احتجاج کرتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے تیاری کرلی ہوگی کہ اگر پاکستان آئی سی جے کا فیصلہ نہیں مانتا تو وہ آئی سی جے سے رابطہ کریں گے۔ وزیر قانون نے کہا کہ کسی پر کوئی الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا۔ جب اس کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت کی وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس کو قونصلر رسائی نہیں دینی چاہیے۔فروغ نسیم نے کہا کہ اس وقت کی حکومت نے جاسوسی کی وجہ سے اس کو قونصلر رسائی نہ دینے کا فیصلہ کیا،اگر اس وقت پاکستان ایک ریزرویشن دیتا آپشنل پروٹوکول سے نکل جاتا اور آئی سی جے کا دائرہ کار سے معاملہ باہر کر دیتا،لیکن ایسا نہیں ہوا،فیصلہ اس وقت کی وفاقی حکومت کا تھا۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اس آرڈیننس نے کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں کی۔ آرڈیننس اس لیے لائے کہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان ذمہ دار ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن کو کبھی نہیں کہا آپ مودی کے یار ہیں۔ میرا فرض ہے کہ آپ کو حقائق بتاو¿ں۔ آپ بے شک سیاست کرلیں۔ حساس سکیورٹی معاملہ ہے اس پر سیاست نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل دفتر نے آرڈیننس سے متعلق بین الاقوامی وکلا سے بھی رائے لی،بین الاقوامی وکلا کی رائے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ گئے۔ حکومت کا یہ موقف نہیں فوجی عدالت کے فیصلہ کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کا انتظار کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی سی جے نے کہا کہ آپ کلبھوشن کو اپیل دائر کرنے کا حق دیں،بھارت یا کلبھوشن اپیل دائر کرسکتا ہے۔








