صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کا اقدام کا بنیادی مقصد یہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے، 32 ہزار غیر ریاستی بھارتیوں کو ڈومیسائل دے دیئے گئے، کشمیر کے ڈومیسائل کے قانون میں ترمیم کرکے اب بھارتی فورسز کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ …

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کا اقدام کا بنیادی مقصد یہاں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے، 32 ہزار غیر ریاستی بھارتیوں کو ڈومیسائل دے دیئے گئے، کشمیر کے ڈومیسائل کے قانون میں ترمیم کرکے اب بھارتی فورسز کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو سٹرٹیجک اہمیت دے،بھارتی اقدامات کا مقصد پاکستان کو نقصان پہچانا ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار سے وزیر قومی فوڈ سیکیورٹی سیّد فخر امام، سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر درانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ صدر ازاد کشمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ عالمگیر بن چکا ہے اور اس پر سلامتی کونسل میں تین ڈیبیٹ ہو چکی ہیں،پاکستان کی ریاست، تارکین وطن،عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر مباحثے کئے اس پر رپورٹس کا اجراءکیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سیدھی سیدھی حکمت عملی پاکستان کو نقصان پہچانا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام سیاسی اور عسکری قیادت ایسے بیانات دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کے لئے بہت کچھ کیا ہے اس پر اسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیر کے لئے کام کرنے پر بیرون ملک تارکین وطن کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دفاعی رویہ اختیار کرنے کی بجائے فعال اور جارحانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی بہنوں اور بھائیوں کو غلامی سے نجات دلانی ہے اور ہمیں اس کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارا ایک حصہ زیر تسلط ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ ہماری شناخت اور دین کی بقا کی جنگ ہے،یہ ایک سولائزیشنل جنگ ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دباﺅ بڑھانا ہے،تارکین وطن کی قوت اور طاقت کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لانا ہے، جس طرح بھارت ہائی بریڈ وار کھیل رہا ہے ہمیں بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آر ایس ایس اور بی جے پی کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو مضبوط بنانے کے لئے جنگ کی حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرہوں کو 200 سال سے قابو نہیں کیا جاسکا۔کشمیری کا مسئلہ کشمیریوں کی جدوجہد کو بند کمروں کی بجائے دنیا بھر کی چوکوں اور چوراہوں پر لے جانا ہوگا۔

مزید خبریں