اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کے فاشسٹ ازم کو دنیا کے ہر فورم پر بے نقاب کرتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیری اور پاکستانی ایک قوم ہیں اور کوئی طاقت کشمیر اور پاکستان …
پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کا کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ ‘ شہریار خان آفریدی کا ”اے پی پی“ کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کے فاشسٹ ازم کو دنیا کے ہر فورم پر بے نقاب کرتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیری اور پاکستانی ایک قوم ہیں اور کوئی طاقت کشمیر اور پاکستان کو الگ نہیں کر سکتی،ہم کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل نہیں کرنے دیں گے، کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ ”اے پی پی“ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ءکے اقدام سے بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کیا ہے جو کہ غیر انسانی،غیر جمہوری اورغیر قانونی اقدام ہے اور یہ فاشسٹ مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور کشمیر کمیٹی مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لئے اپنا کردار جاری رکھے گی۔5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تشدد، انسانی حقوق کی پامالی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے،فوجی محاصرے نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کو بدحال کر دیا ہے اور دنیا اس صورتحال پر مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا کو آگے آنا چاہئے اور ہمیشہ کے لئے اس تنازعہ کو حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نظریہ سے متاثر مودی حکومت کی جانب سے 35 اے اور آرٹیکل 370 کا خاتمہ شرمناک اقدام ہے،مودی سرکار کے پاس ان آرٹیکلز کے خاتمے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے،یہ ایک سیاسی چال ہے اور 5 اگست کے اس غیر قانونی اقدام کے بعد کشمیر میں ظلم وبربریت کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کشمیریوں کو روزگار،سکالرشپ سمیت دیگر فوائد حاصل تھے اور سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ صرف وہی کشمیر میں اراضی کی خرید و فروخت کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مودی کے علاوہ ہر ایک کو اس ناانصافی کا ادراک ہے،یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرادادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے،یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ اس اقدام سے بھارت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے کئے گئے وعدے پر عمل نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کا دن کشمیر کی تاریخ میں ایک اور سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی قوم کشمیری عوام سے کمیٹڈ ہے اوروہ دنیا کو یہ باور کرتی رہے گی کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمدمیں ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے دنیا کا رائے اب تبدیل ہو رہی ہے اور یہ ان کے اہم وقت ہے کہ وہ آگے آئیں اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے چھٹکارا دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ گوکہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام دیا ہے تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ عالمی برادری بھارت پر دباﺅ ڈالے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا تسلیم شدہ استصواب رائے کا حق دے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور فرییقین ایک پیج پر ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سفیر کے طور پر ہر عالمی فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے۔








