اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے 5 اگست کے اقدام کے بعد دنیا میں بھارت کے حوالہ سے نکتہ نظر میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، جواہر لعل نہرو ایک کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے، اقوام متحدہ کی واضح …
وفاقی وزیر سیّد فخر امام کا ”کشمیر محاصرے میں“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے 5 اگست کے اقدام کے بعد دنیا میں بھارت کے حوالہ سے نکتہ نظر میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، جواہر لعل نہرو ایک کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے، اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں ہونے کے باوجود کشمیریوں کو بنیادی حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت اطلاعات و نشریات کے اہتمام ”کشمیر محاصرے میں“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیّد فخر امام نے کہا کے جواہر لعل نہرو ایک کشمیری پنڈت تھا جو کشمیر نہیں دینا چاہتا تھا، جواہر لعل نہرو کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے، اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں ہونے کے باوجود کشمریوں کو بنیادی حق خودارادیت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کے بھارت کی جانب سے 5 اگست کا اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے 5 اگست کے اقدام کے بعد دنیا میں بھارت کے حوالے سے نکتہ نظر میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 9 لاکھ بھارت افواج کشمیر میں موجود ہے۔ 54 سال سے سیکیورٹی کونسل نے تسلیم کیا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے پاکستان کے پاس اچھی قیادت ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متاثر کن تقریر میں دنیا کے لئے جن بڑے خطرات کی نشاندہی کی ان میں ایک تنازعہ کشمیر بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدر آباد اور جونا گڑھ بھی متنازعہ علاقہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کے ابھی چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر معاہدے ہوئے ہیں، چین علاقے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے جس کا نقصان بھارت کو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو تہاڑ جیل کے سخت نگرانی وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، جو ظلم کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ میں بھارت کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔








