صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث فضول ہے، نظام میں بہتری ہونی چاہیے، اس ملک کو افراد ہی بنائیں گے، معاشرہ اچانک ٹھیک نہیں ہو گا، تبدیلی آہستہ آہستہ آئے گی، حکومت صحیح سمت کی جانب گامزن ہے ، ملک میں ٹاپ لیول پر کرپشن ختم ہو چکی ہے، حکومت پر اعتماد ہے …

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث فضول ہے، نظام میں بہتری ہونی چاہیے، اس ملک کو افراد ہی بنائیں گے، معاشرہ اچانک ٹھیک نہیں ہو گا، تبدیلی آہستہ آہستہ آئے گی، حکومت صحیح سمت کی جانب گامزن ہے ، ملک میں ٹاپ لیول پر کرپشن ختم ہو چکی ہے، حکومت پر اعتماد ہے کہ بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب کا عمل جاری رہے گا، کورونا بحران کے دوران دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستانی قوم نے زیادہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جس پر مجھے اپنی قوم پر فخر ہے، موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی فورم پر موثر طریقے سے اجاگر کیا ہے، پاکستان نے دنیا کی توجہ مودی حکومت کے غیرآئینی اقدامات کی طرف دلائی، بھارت کشمیر میں جو کرنا چاہ رہا ہے ایسا نہیں کر سکے گا۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل کو اپنے انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا آزمائش سے گزر رہی ہے، مہلک وباءتمام ممالک کیلئے چیلنج ہے، قوم نے بحران کے دوران نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جس پر مجھے اپنی قوم پر فخر ہے، عوام نے نماز تراویح کے دوران جس طرح سے ایس او پیز پر عمل کیا وہ قابل تعریف بات ہے، عوام کو چاہیے کہ عیدالاضحی اور محرم الحرام کے موقع پر بھی زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کریں، علمائے کرام کے ساتھ مل کر ایس او پیز تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے بھی کورونا بحران کے دوران عوام کو ایس او پیز، ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کی اہمیت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے بہترین کردار ادا کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر رہی، اسٹاک ایکسچینج اور برآمدات میں اضافہ ہوا جو کہ ملکی معیشت کیلئے مثبت علامت ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں ٹاپ لیول پر کرپشن ختم ہو چکی ہے، تحقیقات اور بدعنوانی میں بڑا فرق ہے، بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہییں، اپنی جماعت کے لوگوں پر بھروسہ ہے کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں تاہم اگر کوئی بدعنوانی میں ملوث ہے تو اس کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں، حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ احتساب کا عمل جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی اور گندم بحران کی رپورٹس عوام کے سامنے رکھیں، اپنے لوگوں کے ملوث ہونے کے باوجود حکومت رپورٹس منظرعام پر لائی جو کہ شفاف احتساب کی جانب مثبت پیشرفت ہے، اسی طرح آئی پی پیز معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں کراچی کے حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں، کراچی میں پانی کی قلت، سیوریج، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں، کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور ایم این ایز کو پیکیجز دے دیئے گئے ہیں، وفاق اور سندھ حکومت آدھا آدھا حصہ ڈالیں تو کے فور منصوبہ مکمل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومتوں میں حکومت اور اتحادیوں کے درمیان نظریات کی وجہ سے اختلافات ہوتے رہتے ہیں، یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے، حکومت عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک کی ترقی کیلئے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں حالات زیادہ خراب تھے، میڈیا نے کم بتائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ماسک پہن کر اور ٹوپی پہن کر عوام کے پاس جاتا ہوں تاکہ وہ مجھے پہچان نہ سکیں، کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کے ساتھ الیکشن سے پہلے والا تعلق ہو، اسی طرح وزیراعظم عمران خان بھی اچانک ہسپتالوں اور پناہ گاہوں کا دورہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ کے حق کیلئے جہدوجہد کر رہا ہوں، اوورسیز پاکستانیوں کو انتخابات لڑنے کے حوالے سے پارلیمنٹ بحث کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تکنیکی لوگوں کو ذمہ داریاں دے سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب آئین میں بہتری ہو سکتی ہے تو 18ویں ترمیم میں کیوں نہیں، 18ویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش ہے، حکومت اور اپوزیشن کو آپس میں بیٹھ کر اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو موثر طریقے سے بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کیا ہے، پاکستان نے دنیا کی توجہ مودی حکومت کے غیرآئینی اقدامات کی طرف دلائی ہے، دنیا بخوبی آگاہ ہو گئی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، گلف ممالک کا بھی اس پر ردعمل آیا ہے، وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ جنگ کسی بھی ملک کیلئے اچھی نہیں ہے، بھارت کشمیر میں جو تبدیلی لانا چاہتا ہے نہیں لا سکے گا۔

مزید خبریں