جنوبی پنجاب صوبہ ہماری منزل ہے اور ہم یہ منزل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حاصل کرلیںگے، وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کی پریس کانفرنس

ملتان ۔25 جولائی (اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ ہماری منزل ہے اور ہم یہ منزل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حاصل کرلیںگے۔سرکٹ ہائوس ملتان میں ہفتے کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ملتان کے صحافیوں سے مخاطب ہوکرکہاکہ آپ کا اور ہمارا مقدمہ ایک ہے اورمنزل بھی ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کے حوالے سے …

ملتان ۔25 جولائی (اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ ہماری منزل ہے اور ہم یہ منزل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حاصل کرلیںگے۔سرکٹ ہائوس ملتان میں ہفتے کے روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ملتان کے صحافیوں سے مخاطب ہوکرکہاکہ آپ کا اور ہمارا مقدمہ ایک ہے اورمنزل بھی ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کے حوالے سے عبوری دور سے گزررہے ہیں ۔اس عمل کو اتناآ گے لے کر جائیںگے کہ کوئی مائی کا لعل اسے ریسورس نہیں کرسکے گا۔ہم ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ جتنی مرضی سرخیاں لگائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔بعض قوتیں اس مسئلے پر بلا وجہ ابہام پیدا کررہی ہیں لیکن ہم اس ابہا م کا شکارنہیں ہوںگے۔ ہم ان کے جال میں نہیں آئیں گے اور آگے بڑھتے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے کہہ رہا ہوں کہ بعض لوگ ہمیں تقسیم کرکے اس سارے منصوبے کو التواء میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ ماضی میں بھی ہمیں ایسے ہی الجھاتے رہے جس کی وجہ سے ہرمرتبہ اختلافات کاشکارہوکر معاملہ التواء میں جاتارہا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا دارالحکومت کہاں ہوگا اس کا فیصلہ صوبے کی پہلی منتخب اسمبلی کرے گی اورا س فیصلے میں پورے وسیب کے لوگ شامل ہوںگے۔وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ ہم نے صوبے کے قیام کے لیے رولز آف بزنس بھی وزیراعلی پنجاب کے حوالے کردیئے ہیںتاکہ انہیں اسمبلی سے منظور کروا کے مزید پیش قدمی کی جاسکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ آنے والے پنجاب کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جنوبی پنجاب کا علیحدہ کتابچہ ہو تاکہ آبادی کی شرح اور پسماندگی کو مدنظر ر کھ کراس خطے کے لئے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ پبلک سروس کمیشن قائم کیا جائے تاکہ اس خطے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول میں آسانی ہو۔انہوں نے کہاکہ صوبہ بننے میں وقت لگے گا تاہم عملی اقدامات شروع ہوگئے ہیں۔ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔یہ اکثریت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ پنجاب میں بھی درکار ہے۔پہلے صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوتہائی اکثریت کے ذریعے ترمیم ہوسکتی تھی ۔ پیپلزپارٹی نے اس عمل کو مزید مشکل بنادیا اور یہ شرط بھی عائد کردی کہ تقسیم ہونے والے صوبے کی اسمبلی بھی دوتہائی اکثریت سے صوبے کے قیام کی منظوری دے۔انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔اس کا قیام آ نے والی نسلوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ نئے صوبے کے قیام میں پیشرفت پروزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کے شکرگزارہیں۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں۔ وہاں مساجد پر تالے لگائے گئے ہیں اور حالات بتدریج بگڑتے چلے جا رہے ہیں جبکہ ایل او سی پر دشمن ملک کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔فنانشل ٹاسک فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں بھیجا جاسکے۔ گرے لسٹ ہمیں پچھلی حکومت سے ملی۔ وہاں سے نکلنے کے لیے قانون سازی درکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے آٹھ قوانین پر وزارت قانون اور وزارت خزانہ کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ہم نے اس حو الے سے آٹھ بل تیار کرلیے ہیں۔ نیب قوانین میں ترامیم کے لیے بھی ایک بل تیار کیا گیا ہے۔ تمام بلزمشاورت کے لیے اپوزیشن کوبھیج دیئے ہیں۔ پیرکواپوزیشن کے ساتھ نشست ہوگی دیکھیں گے کیا پیشرفت ہوتی ہے۔ کرپشن فری پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ احتساب سے انتقام کی بو آئے۔

مزید خبریں