اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) معاشرے کے مستحق طبقہ کو احساس پروگرام کے تحت بھوک سے تحفظ دینے کے لئے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کامیاب رہی ہے،عالمی سطح پر سراہی جانے والی سمارٹ لاک ڈائون کی اس پالیسی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس سے کووڈ 19 کیسز میں نمایاں کمی اور معیشت کو تحفظ ملا ہے اور غربت کی نچلی لکیر سے نیچے …
معاشرے کے مستحق طبقہ کو احساس پروگرام کے تحت بھوک سے تحفظ دینے کے لئے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کامیاب رہی ہے،عالمی سطح پر سراہی جانے والی سمارٹ لاک ڈائون کی اس پالیسی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس سے کووڈ 19 کیسز میں نمایاں کمی اور معیشت کو تحفظ ملا ہے’

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) معاشرے کے مستحق طبقہ کو احساس پروگرام کے تحت بھوک سے تحفظ دینے کے لئے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کامیاب رہی ہے،عالمی سطح پر سراہی جانے والی سمارٹ لاک ڈائون کی اس پالیسی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس سے کووڈ 19 کیسز میں نمایاں کمی اور معیشت کو تحفظ ملا ہے اور غربت کی نچلی لکیر سے نیچے بسنے والوں اور دیہاڑی دار طبقہ اوراس کے خاندانوں کو بھوک کے اثرات سے تحفظ ملا ہے’ جب سے پاکستان میں کووڈ 19 کے کیس سامنے آئے وزیر اعظم عمران خان کا یہ موقف رہا کہ مکمل لاک ڈائون نہیں ہونا چاہیئے اور اس پر انہیں تنقید کا بھی سامنا رہا،اس دوران معاشرے کے غریب اور مستحق طبقہ کے لئے سماجی تحفظ کا ایک بڑا اقدام احساس کے نام سے کامیابی سے شروع کیا گیا۔کووڈ 19سے بری طرح متاثر ہونے والے مزدور اور دیہاڑی دار افراد کے لئے یہ احساس پروگرام ایک معاونت تھی۔ ان ملازمت نہ رکھنے والے مزدور اور دیہاڑی دار افراد کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اپریل کے آغاز میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے کی مالی معاونت کا آغاز کیا گیا۔23 جولائی تک 158 ارب 93 کروڑ 30 لاکھ روپے 1کروڑ31 لاکھ 37 ہزار 230 افراد میں لاک ڈائون کے متاثرہ افراد میں احساس ادائیگی مراکز میں ملک بھر میں تقسیم کئے گئے۔صوبائی سطح کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں 58 لاکھ 85 ہزار 826 خاندانوں میں 71 ارب 21 کروڑ 90 لاکھ روپے، سندھ میں 39 لاکھ 97 ہزار 997 افراد میں 48 ارب 20 کروڑ 20 لاکھ روپے، خیبرپختونخوا میں 22 لاکھ 25 ہزار 741 افراد میں 27 ارب 1 کروڑ 60 لاکھ روپے،بلوچستان میں 6 لاکھ 51 ہزار 227 افرادمیں 7 ارب 91 کروڑ روپے، آزاد کشمیر میں 2 لاکھ 14 ہزار 97 افراد میں 2 ارب 61 کروڑ 40 لاکھ روپے،گلگت بلتستان میں 94 ہزار 996 افراد میں 1 ارب 16 کروڑ روپے اور اسلام آباد میں 67 ہزار 346 افراد میں 81 کروڑ 30 لاکھ روپے تقسیم کئے گئے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحظ وتخفیف غربت ڈاکٹرثانیہ نشتر کے مطابق ہنگامی نقدامداد پروگرام کی بے مثال کامیابی کے بعد اس کے دائرہ کارمیں ایک کروڑ 20 لاکھ سے بڑھا کرایک کروڑ 69 لاکھ خاندانوں تک توسیع کردی گئی ہے جبکہ اس کیلئے مختص بجٹ کو144 ارب روپے سے بڑھاکر203 ارب روپے کردیا گیاہے۔ اسی طرح 21 اپریل کوکوروناوائرس کی وباء کے تناظرمیں احساس راشن پورٹل کا ایک اوراقدام اٹھایا گیاجس کامقصد معاشرے کے غریب اورکمزورطبقات کو بھوک سے بچانا تھا اس پورٹل کے ذریعہ عطیہ دینے والے اداروں، مخیر افراد اورمستحقین کے درمیان رابطہ استوارکرناتھا۔احساس پورٹل www.rashan.pass.gov.pk کا بنیادی کردار رجسٹریشن کے ذریعہ ڈونرز کو مستحق اورلائق امداد افراد کی معلومات کی فراہمی تھا۔مستحق افراد کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کا احساس ڈیٹا کے ذریعہ سکروٹنی کی جاتی ہے تاکہ درخواست دینے والے افراد کی امداد کیلئے اہلیت کا تعین کیا جاسکے ، امداد دینے والے اداروں کی پروگرام میں شرکت کیلئے خصوصی جائزہ کا طریقہ کاراختیارکیا گیاہے۔ احساس راشن پورٹل کے ذریعہ اب تک 7 لاکھ 38 ہزار869 افراد نے راشن کی معاونت کیلئے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے جبکہ مستحق افراد میں راشن کی تقسیم کاکام شروع کردیا گیاہے۔احساس کے تحت دیگرجاری پروگراموں میں احساس انڈرگریجوویٹ سکالرشپ، احساس پناہ گاہ ولنگرسکیم، احساس کفالت، احساس بلاسود قرضہ اوراحساس آمدن واثاثہ جات کی منتقلی کا پروگرام شامل ہے۔ موجودہ حکومت نے احساس کے تحت سماجی تحفظ اورتخفیف غریب کے پروگراموں پرمجموعی طورپر254.95 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔احساس آمدن پروگرام 21 فروری 2020 کو شروع کیا گیا، اس پروگرام کے تحت اب تک 25 ہزار54 گھرانوں کو1.5 ارب روپے کے اثاثہ جات کی منتقلی عمل میں لائی گئی ہے، احساس سیلانی لنگرکا آغاز 7 اکتوبر2019 کو کیا گیا۔








