وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پاک فوج کے ساتھ مل کر کووڈ۔19 کا بھر پور مقابلہ کیا، آج پوری دنیا پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کو سراہا رہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی ثانیہ ایدروس اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 26 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پاک فوج کے ساتھ مل کر کووڈ۔19 کا بھر پور مقابلہ کیا، آج پوری دنیا پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کو سراہا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کی …

اسلام آباد ۔ 26 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پاک فوج کے ساتھ مل کر کووڈ۔19 کا بھر پور مقابلہ کیا، آج پوری دنیا پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کو سراہا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت پاکستان میں کورونا وا ئرس کا زور نہ صرف کم ہوا بلکہ یومیہ اموات اور مثبت کیسز کی تعداد بھی کم ہوئی۔ عوام الناس سے اپیل کی کہ عید الاضحی کے دوران وزارت صحت کی جانب سے جاری کئے گئے ایس او پیز اور گائیڈ لائنز پر مکمل عمل کریں تاکہ کورونا وائرس کا پھیلائو مزید نہ ہو۔ پاکستان کی 22 کروڑ عوام ڈاکٹروں، مسلح افواج، سکیورٹی اداروں نے قیادت کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے ثابت کردیا کہ پاکستان واحد قوم ہے جو کسی بھی آفت، وبا اور چیلنج میں ایک قوم بن کر مقابلہ کرتی ہے ۔ وہ اتوار کو معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان ثانیہ ایدروس اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد کووڈ۔19 ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز چین کے بعد یورپ، برطانیہ ، مشرق وسطیٰ میں سامنے آئے۔ جنوری، فروری 2020ء میں پاکستان میں کورونا کا ایک کیس رپورٹ ہوا۔ اس وقت پاکستان اس عالمی وبا سے مقابلے کے لئے بالکل تیار نہیں تھا۔ صحت کے ڈھانچہ ، ملک کی معاشی صورتحال اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیرا عظم عمران خان نے ایک حکمت عملی ترتیب دی جس طرح دنیا میں مکمل لاک ڈائون لگائے گئے تھے۔ پاکستان ایسے لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں کچھ عرصہ کے لئے جزوی لاک ڈائون لگا کر اس کے نتائج پر قیادت نے پائیدار طویل مدتی فیصلے کئے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک جن کے ہیلتھ کیئر کے نظام بہت اچھے تھے وہاں پر بھی دل دہلا دینے والے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بنیادی سوچ ہے کہ ملک کے اندر غریب، پسماندہ ، پسے ہوئے طبقات، رکشہ چلانے والے، ریڑی لگانے والے اور دیہاڑی دار کے لئے ایک ایسا ماحول دیا جائے کہ وہ شام کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کچھ نہ کچھ گھر لے جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کامیاب حکمت عملی اور ثابت قدمی کی بدولت عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں زندگی، صحت اور روزگار اکٹھا چلتا رہا۔ اس کامیاب حکمت عملی پر تنقید کرنے والوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ خود اعتراف کریں کہ عمران خان کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت آج پاکستان میں کورونا کا پھیلائو کم ہوا ہے۔ حالانکہ دنیا ہماری اس پالیسی کو سراہا رہی ہے اور اسے رول ماڈل کے طور پے استعمال کرنے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق 160ارب روپے احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں تک شفاف اندز میں پہنچائے گئے ۔ مخالفین اس کی شفافیت پر انگلی نہیں اٹھاسکتے ۔ ایک کروڑ 31 لاکھ لوگوں میں کیش رقم تقسیم کی گئی ۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ہسپتالوں میں ڈیٹا نہیں اور نہ ہی وبا سے لڑنے کا بنیادی ڈھانچہ قائم تھا ۔ اس لئے این سی او سی کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں اس حکمت عملی پر صوبوں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد عملدرآمد کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل ، معاون عملے ، وفاقی صوبائی حکومتوں، مسلح افواج اور میڈیا کی اس وبا کے دوران کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری حکمت عملی میں ڈاکٹر فیصل سلطان ، ڈاکٹر ثانیہ سمیت کئی ہیروز کی دن رات کی محنت اور بے لوث خدمت شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی وبا جب پاکستان آئی تھی یہ مشکل صورتحال تھی۔ اگر یہ حکمت عملی نہ اپنائی جاتی تو ملک کے اندر خانہ جنگی ، خوراک کی ترسیل متاثر اور معیشت ڈوب چکی ہوتی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل ثانیہ ایدروس نے کہا کہ جب ہم نے ڈیجیٹل پورٹل پر کام کا آغاز کیا تو ہمیں شدید مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ ہمارے پاس دنیا میں اور نہ ہی ہمیں کووڈ۔19 کے اثرات کا پتہ تھا کہ اب تک اس کتنے اثرات ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شفافیت سے ایک نظام کھڑا کیا جس سے عوام کو یومیہ بنیاد پر حقائق معلوم ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کیلئے کووڈ۔19 کی ویب سائٹ، ریسورس، مینجمنٹ سسٹم سے لے کر حفاظتی نظام تیار کیا گیا اس میں 100 فیصد شفافیت یقینی بنائی گئی۔ ہماری اس کامیاب حکمت عملی کی بدولت آج ملک میں کورونا سے اموات، مثبت کیسز، اور پھیلائو کی شرح کم ہوئی ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ ایسا کام کریں جس سے طویل المدتی فوائد ہمارے نظام کو ہو اور اس نظام سے آئندہ کسی وبا کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے طویل المدتی پائیدار فیصلہ سازی کے عمل کو ترجیحی دی ۔ اس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کا ساتھ چلنا لازمی تھا ، اس لئے این سی او سی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس حکعمت عملی کی تعریف دنیا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق ، ہسپتالوں میں بیڈز، وینٹی لیٹرز کی تعداد، ڈاکٹروِ پیرامیڈیکل کی تعداد، اس سسٹم پر ایک بٹن دبانے سے مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی میں بنائی گئی ٹی ٹی کیو حکمت عملی کے تحت ٹریکنگ کی جاری ہے اور آج بھی اس پر کامیابی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں وبا کا پھیلائو بڑھے گا وہیں سمارٹ لاک ڈائون لگا دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اب معیشت بھی چل رہی ہے اور مرحلہ وار صنعتیں بھی کھل رہی ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ کورونا عدم پھیلائو کی ایس او پیز پر 100 فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں۔ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ عیدالفطر کے دوران کیسز کی تعداد میں اضافے سے سسٹم پر پریشر آیا تھا، اب ہمیں عیدالاضحیٰ اور محرم کے دوران سختی سے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو پھر مشکل صورتحال میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسک کے بغیر شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں اور سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔ ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کی یومیہ صلاحیت 50ہزارسے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو وبا دو بارہ عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وبا سے بچنے کے لئے سماجی فاصلوں کے اصول پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کا دباؤ بڑا تو فرنٹ لائن ورکرز نے جان کی قربانی دی،صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں نے وبا پر قابو پانے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 102 کرونا ٹیسٹنگ لیبز کام کر رہی ہیں۔

مزید خبریں