اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی)عالمی بینک نے کہاہے کہ کوروناوائرس کی وباء کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے خطہ میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑلوگ بے روزگارہوگئے ہیں جبکہ خطہ کے ممالک کی جی ڈی پی کواس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے۔ یہ بات جنوبی ایشیاء کیلئے عالمی بینک کے نائب صدرہارٹ ویگ شیفرنے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔انہوں …
وباء کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے خطہ میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑلوگ بے روزگار خطہ کے ممالک کی جی ڈی پی کواس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی)عالمی بینک نے کہاہے کہ کوروناوائرس کی وباء کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے خطہ میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑلوگ بے روزگارہوگئے ہیں جبکہ خطہ کے ممالک کی جی ڈی پی کواس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے۔ یہ بات جنوبی ایشیاء کیلئے عالمی بینک کے نائب صدرہارٹ ویگ شیفرنے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ مالدیپ سب سے زیادہ متاثرہونے والے ممالک میں شامل ہیں جہاں مجموعی قومی پیداوارمیں سیاحت کا حصہ 60 فیصد کے قریب ہے۔انہوں نے عالمی بینک کے جائزہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جنوبی ایشیاء کاخطہ سیاحت کے حوالہ سے اہم علاقہ ہے، پاکستان ،نیپال اوربھوٹان میں دنیاء کی بلندترین چوٹیاں ہیں، وباء کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء کے خطہ میں صرف سیاحت کے شعبہ میں ایک کروڑلوگ بے روزگارہوگئے ہیں جبکہ خطہ کے ممالک کی جی ڈی پی کواس کے نتیجہ میں 52 ارب ڈالرکے نقصان کا اندازہ ہے، سیاحت کی بندش سے بالخصوص وہ خواتین اورنوجوان زیادہ متاثرہوئے ہیں جو ہوٹلز، ریستورانوں، ٹورکمپنیوں اورسیاحت سے متعلق چھوٹے کاروبار سے منسلک تھے۔انہوں نے کہاکہ سیاحت کے شعبہ کو جلد اپنے پائوں پرکھڑا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا اس کیلئے علاقائی تعاون اوراشتراک کے علاوہ سرکاری اورنجی شعبہ کو مل کراقدامات اٹھانا ہوں گے۔اس کے علاوہ سیاحتی مقامات کے حوالہ سے تحفظ صحت عامہ کے بین الاقوامی معیارکو برقراررکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ خطہ کے ممالک کو اس ضمن میں کینیا، روانڈا اوریوگینڈا کی 2014ء میں مرتب کردہ حکمت عملی کواپنانا چاہئیے جس میں سیاحوں کوتینوں ممالک میں بہ آسانی گھومنے پھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء میں بدھ مت کے آثارکی سیاحت کے ضمن میں عالمی بینک ساوتھ ایشیاء ریجنل ٹریڈ فیسلی ٹیشن پروگرام کے ذریعہ معاونت فرام کررہاہے،اس کے علاوہ عالمی بینک خطہ کے ممالک سیاحت کی وزارتوں ، بورڈز، اورٹورسٹ بزنس گروپس کے ساتھ بھی تعاون کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ خطہ میں سیاحت کی مکمل بحالی میں 18 ماہ سے زیادہ کاعرصہ لگ سکتاہے۔








