مٹھی۔ 26جولائی (اے پی پی) زرعی یونیورسٹی سندھ ٹنڈوجام کے زرعی تعلیم اور توسیع ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا ہے کہ لیموں کی اْگائی کیلئے سوڈیم کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کھاد کے ساتھ نمک کو ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی تھرپارکر کی کیمپس اور تھر فاؤنڈیشن والوں کو بھی …
لیموں کی اْگائی کیلئے سوڈیم کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کھاد کے ساتھ نمک کو ملاکر استعمال کیا جاتا ہے ،زرعی یونیورسٹی سندھ ٹنڈوجام کے زرعی تعلیم اور توسیع ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کی اے پی سے سے گفتگو

مزید خبریں
مٹھی۔ 26جولائی (اے پی پی) زرعی یونیورسٹی سندھ ٹنڈوجام کے زرعی تعلیم اور توسیع ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا ہے کہ لیموں کی اْگائی کیلئے سوڈیم کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کھاد کے ساتھ نمک کو ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی تھرپارکر کی کیمپس اور تھر فاؤنڈیشن والوں کو بھی اس حوالے سے تحقیقات کرنی چاہیئے۔ ڈاکٹر کنبھر نے کہا کہ نمک نہ صرف کھانے بلکہ دواؤں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تھرپارکر میں نمک کے بہت بڑے ذخائر ہیں جن کے بہتر استعمال کیلئے حکومت کو کوششیں کرنی چاہئیں۔ نمک کو اینگرو سمیت کھاد کی بڑی فیکٹریاں استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھری تھر میں بھی نمک کی کانیں موجود ہیں’ ان کو صنعت کا درجہ دلانا چاہیئے۔ زرعی یونیورسٹی کے سوائل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر نے کہا کہ نمک کھاد بنانے کیلئے استعمال نہیں ہو سکتا’ ہوسکتا ہے کہ تھوڑا بہت استعمال ہوتا ہو لیکن نمک زمین کیلئے خطرناک ہے بلکہ پوٹاش کی تیاری میں ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ مقدار استعمال ہوتا ہو۔ سوڈیم کلورائیڈ میں بھی نمک کا استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرد ممالک کو نمک اس لیے بڑے تعداد میں جاتا ہے کیونکہ وہاں پر نمک کی قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پاس نمک کا زیادہ استعمال کھانے پینے کے حوالے سے ہے’ جبکہ زراعت کے حوالے سے اس کا اتنا استعمال نہیں ہے۔نمک کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور تاجروںکا کہنا ہے کہ تھر میں موجود بڑی مقدار میں نمک کے کاروبار کو صنعت کا درجہ نہ ملنے کے باعث نمک سستے نرخوں پر فروخت ہو رہا ہے اور مزدوروں کی مزدوری نہ ہونے کے برابر ہے’ صنعت کا درجہ نہ ہونے کے باعث اربوں روپے کے کاروبار پر حکومت کو رائلٹی نہ ہونے کے برابر مل رہی ہے جس سے حکومت سمیت نمک نکالنے والے مزدوروں سے لیکر نمک لیکر فروخت کرنے والے تاجروں کو مناسب نرخ نہیں مل رہے۔ اے پی پی سے بات کرتے ہوئے نمک کی کانوں پر مزدوری کرنے والے عمران علی نے کہا کہ یہاں پر کام کرنے والے مزدوروں کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں، ان کو مزدوری بھی نہیں دی جاتی، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ ہے کہ ضلعی تھرپارکر میں نمک کی کانوں کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ جعمو سومرو نے کہا کہ ہمیں محنت کا پھل نہیں ملتا، مزدو محمد ایوب، عرفان علی، محمد اشرف، عارب سومرو’ یامین’ خمیسو’ موسی راہموں’ جمعو’ کرشن کولھی’ جگتو اور والو کولھی نے بتایا کہ ہمیں 50 کلو کی بوری کے صرف سات سے آٹھ روپے ملتے ہیں’ ایک مزدور روزانہ 40سے 50نمک کی بوریاں مشکل سے نکالتا ہے جن کے صرف 400 روپے ملتے ہیں جبکہ نمک کان سے بوریاں ٹرالر میں لوڈ کرنے کی فی بوری پر دو سے اڑھائی روپے مزدوری دی جاتی ہے۔ نمک کے تاجروں کا کہنا ہے کہ نمک کو صنعت کا درجہ مل جائے تو سب سے زیادہ فائدہ مزدوروں کو ہوگا۔ تھرپارکر کی نمک کانوں پر کام کرنے والے ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ صحت کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں’ انہیں جلد کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں’ مزدوروں کے مطابق ان کے ہاتھ اور پاؤں نمک کے باعث زخمی ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ان کے زخم ناسور بن جاتے ہیں جس کے باعث کچھ عرصے کے بعد یہ مزدور کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ نمک کی کانوں پر مزدوری کرنے والے مزدوروں نے کہا کہ تھرپارکر میں ایک سو سے زائد نمک کی کانوں پر کہیں بھی صحت کی سہولت موجود نہیں ہیں اور نہ ہی محکمہ لیبر کی جانب سے کوئی ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ نمک کے کان پر مزدوری کرنے والے مزدوروں کے بچوں کیلئے تعلیم بھی مسئلہ ہے اور ان کے بچوں کو تعلیم دلانے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی بھی سکول قائم نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث ان کے بچے بچپن سے ہی نمک نکالنے کے کام میں لگ جاتے ہیں اور ان کیلئے زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔ بڑی تعداد میں مزدروں کے بیمار ہونے کے باعث کچھ عرصے سے ٹریکٹروں کے ذریعے نمک اکٹھا کیا جاتا ہے ۔. تھرپارکر میں صحت کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث نمک کی کانوں پر کام کرنے والے مزدور کئی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بڑی تعداد میں مزدروں کے بیمار ہونے کے باعث کچھ عرصے سے اب ٹریکٹروں کے ذریعے بھی نمک اکٹھا کیا جاتا ہے’ اس کے علاوہ نمک اٹھانے کیلئے کرین مشینوں اور ٹریکٹر ٹرالی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے’ جس سے نمک کو ایک جگہ پر بڑے تعداد میں اکٹھا کرکے صاف کیا جاتا ہے’ صاف ہونے کے بعد نمک کو بوریوں میں ڈال کر ٹرالروں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔








