اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) این سی او سی کا خصوصی اجلاس پشاور میں وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں منعقد ہوا جس کی میزبانی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی۔اجلاس میں این سی او سی کی خصوصی ٹیم اور صوبائی چیف سیکرٹریز کے علاوہ دیگر صوبوں کے عہدیداران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں عید قربان …
وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت پشاور میں این سی او سی کا خصوصی اجلاس، مویشی منڈیوں میں ایس او پیز اور حفاظتی انتظامات بارے بریفنگ دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) این سی او سی کا خصوصی اجلاس پشاور میں وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں منعقد ہوا جس کی میزبانی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی۔اجلاس میں این سی او سی کی خصوصی ٹیم اور صوبائی چیف سیکرٹریز کے علاوہ دیگر صوبوں کے عہدیداران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں عید قربان کے موقع پر مویشی منڈیوں کے حوالے سے ایس او پیز اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وبا کی موجودہ صورتحال کو دیکھا گیا، عوام کا تفریخی اور سیاحتی مقامات کی طرف رخ کرنے کے رجحان میں کمی کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا۔سمارٹ لاک ڈاﺅن ،ہاٹ سپاٹ کے حوالے سے اپڈیٹ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے این سی او سی ٹیم اور دیگر اعلی عہدیداران کو پشاور آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کا خیبرپختونخوا حکومت کی کورونا کے تدارک کے حوالے سے کاوشوں کو سراہنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی کا سہرا اپنی پوری ٹیم کے نام کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے این سی او سی فورم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ این سی او سی کا قیام مستقل طور پر رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں صوبوں سے کوآرڈینیشن کی جا سکے اور اس سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹورازم کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت پر کافی دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کیونکہ ٹوارزم خیبرپختونخوا صوبے کی معیشت کا اہم حصہ ہے تاہم این سی او سی کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اس پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے جس جاں فشانی سے اس وبا پر قابو پایا ہے وہ قابل ستائش اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے تمام صوبوں کی قیادت نے یکجا ہو کر وباء پر قابو پانے کیلئے انتھک محنت اور زبردست اقدامات کیے ان میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا سستی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہے۔جس کے لیے ہمیں سمارٹ لاک ڈاﺅن اور حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کو پہلے سے زیادہ موثر اور یقینی بنانا ہو گا۔عید الاضحی کے موقع پر ہمیں صوبوں کے مابین اور ملک کے مشہور سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمدورفت کو روکنا ہو گا۔جبکہ این سی سی اور این سی او سی میٹنگ عید کے بعد وزیراعظم کی قیادت میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سے مشاورت کے بعد ٹورازم سیکٹر کو کھولنے پر غور کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عید الاضحی کی تعطیلات کے موقع پر تمام قسم کے پارکس،ساحل سمندر اور تمام تفریخی اور سیاحتی مقامات بند رکھیں جائیں گے جبکہ عوام کی مویشی منڈیوں میں زیادہ آمدورفت کی وجہ سے منڈیوں کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ اجلاس میں این سی او سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان، وزیراعظم کے ترجمان برائے کووڈ 19 ڈاکٹر فیصل سلطان،وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ادریس،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیازی اور دیگر نے شرکت کی۔








