وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ جس طرح سے پوری دنیا کورونا وائرس بحران کے دوران وزیراعظم عمران خان کی کامیاب پالیسیوں کا اعتراف کر رہی ہے اسی طرح اپوزیشن کو بھی حوصلے کے ساتھ کا اس کا اعتراف کرنا چاہیے، افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ 70 سالوں کے دوران ملک کو لوٹا گیا …

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ جس طرح سے پوری دنیا کورونا وائرس بحران کے دوران وزیراعظم عمران خان کی کامیاب پالیسیوں کا اعتراف کر رہی ہے اسی طرح اپوزیشن کو بھی حوصلے کے ساتھ کا اس کا اعتراف کرنا چاہیے، افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ 70 سالوں کے دوران ملک کو لوٹا گیا لیکن کبھی طاقتور کا احتساب نہیں ہوا جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے، نیب کے قوانین سخت اور استعمال صحیح ہونا چاہیے، اپوزیشن جماعتیں اپنی خواہشات کے مطابق نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پاس اپنے دور حکومتوں کے دوران نیب قوانین میں ترامیم کا موقع تھا لیکن انہوں نے ترامیم نہیں کیں، موجودہ حکومت نیب قوانین میں ترامیم کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور ہم نے اپنا مسودہ اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے لیکن اپوزیشن نے تاحال اپنا مسودہ نہیں دیا۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے اور حکومت کی مداخلت کے بغیر بدعنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کمزور پراسیکیوشن اور کوتاہیوں کی وجہ سے احتساب کا نظام متاثر ہوا ہے اور ملک کو لوٹنے والے سرخرو ہو کر گھوم رہے ہیں اور وہ خود کو بے گناہ کہتے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ نیب کو تحقیقات اور پراسیکیوشن بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے، جب ٹھوس ثبوت ہوں تو گرفتاری میں کوئی حرج نہیں ہے، نیب کی کارکردگی بہتر کر لے تو گرفتاری پر گفتگو ہی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ایف اے ٹی ایف معاملے کو نیب قوانین میں ترامیم سے منسلک کر رہی ہے اور اپنی خواہشات کے مطابق نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہے جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نیب ایسے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے جس کیلئے دوسرے فورمز موجود ہیں، ہم نے ایف بی آر کو بزنس مین کی تحقیقات سونپنے کی تجویز مسودے میں دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہمارے مسودے میں نہیں ہے، معلوم نہیں کہ مدت ملازمت میں توسیع کی بات کہاں سے آئی ہے۔

مزید خبریں