پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے، مودی سرکار نے فوجی محاصرے سے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا ہے، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے اور امن کی اہمیت کو سمجھتا ہے، تمام تر مسائل کا حل ڈائیلاگ ہے اور جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں، 5 اگست انسانی تاریخ کا ایک تاریک دن ہے جب غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے انسانی حقوق کی پامالی …

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے اور امن کی اہمیت کو سمجھتا ہے، تمام تر مسائل کا حل ڈائیلاگ ہے اور جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں، 5 اگست انسانی تاریخ کا ایک تاریک دن ہے جب غیر قانونی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے انسانی حقوق کی پامالی کی ایک نئی مثال قائم کی اورفوجی محاصرہ سے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کر دیا، انسانی تاریخ میں ایسی بدترین مثال کہیں نہیں ملتی۔ بدھ کو اپنے ایک پیغام میں چیئرمین سینٹ نے کہا کہ یہ طویل ترینفوجی محاصرہ جس میں بھارتی افواج نے درندگی کی انتہا کرتے ہوئے بچوں، بوڑھوں، خواتین اور معصوم نہتے کشمیریوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جس پر عالمی اداروں نے بھی سوالات اٹھائے اور بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال کے پیش نظر بھارتی حکومت کے اقدامات سے خطہ کے امن کے توازن کو شدید دھچکا لگا اور علاقائی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان مسئلہ کشمیر کا پر امن حل چاہتا ہے اور امن کی اہمیت کو سمجھتا ہے، تمام تر مسائل کا حل ڈائیلاگ ہے اور جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بین الریاستی مسائل ہمیشہ مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں اور پائیدار امن اسی طریقے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے برعکس بھارت نے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کئے اور ہمیشہ خطہ کے تھانیدار بننے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام رہا، آج 5 اگست 2020ء ہے اور غیر قانونی بھارتی مقبوضہ وادی میں فوجی محاصرے کو ایک سال پورا ہوگیا ہے اور اس ایک سال کی تاریخ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کے خون سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پر اب یہ لازمی ہوگیا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالے اور بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرائے۔