شریعت و روایات کا تقاضا ہے کہ پارلیمان کی بے توقیری اور کردار کشی کرنے والوں کو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں ہونا چاہیے’ ایک دوسرے کا احترام سب پرلازم ہے وفاقی وزیرسیفران شہریارخان آفریدی کا قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہارخیال

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیرسیفران شہریارخان آفریدی نے کہاہے کہ شریعت و روایات کا تقاضا ہے کہ پارلیمان کی بے توقیری اور کردار کشی کرنے والوں کو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں ہونا چاہیے' ایک دوسرے کا احترام سب پرلازم ہے۔ پیرکوقومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پرانہوں نے کہاکہ گزشتہ اسمبلی میں ہم 34 ممبران تھے، جن کاکردارپورے پاکستان نے دیکھا، ہم نے احتجاج …

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیرسیفران شہریارخان آفریدی نے کہاہے کہ شریعت و روایات کا تقاضا ہے کہ پارلیمان کی بے توقیری اور کردار کشی کرنے والوں کو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں ہونا چاہیے’ ایک دوسرے کا احترام سب پرلازم ہے۔ پیرکوقومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پرانہوں نے کہاکہ گزشتہ اسمبلی میں ہم 34 ممبران تھے، جن کاکردارپورے پاکستان نے دیکھا، ہم نے احتجاج کیا، جب استعفے دیئے تو ایازصادق کے پاس 80 ارکان گئے کہ ان کے استعفے منظورنہ کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں ضمنی انتخابات کے موقع پر وہ ووٹ مانگنے کیلئے گئے تو اتنے میں سردارصاحب آئے لیکن ان کے ماتھے پر بل نہ آئے۔ ہم سب کی عزت کرتے ہیں۔2014ء مین حج پرگیا میرے بچوں کی ذمہ داری مراد سعید اور ان کی اہلیہ نے سنبھالی تھی۔ مراد سعید نے بچپن میں قران حفظ کیا، اس کے دل میں قران کریم ہے، اس کی والدہ گولہ لگنے سے مفلوج ہیں، اس کا کوئی کاروبارنہیں ‘ وہ کمٹڈ ہیں، میں ان کے کردارکی قسم کھاتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں درخواست کررہاہوں میری اولاد ہے اور ہم سب صاحب اولاد ہیں، مولانا فضل الرحمان سے احترام کارشتہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان سے کچھ فوٹیجز گئی ہیں جس سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ جے یوآئی کیلئے دل میں احترا م ہے۔ مفتی محمود مرحوم کا ایک رتبہ تھا ہمیں ایسا طرزعمل اختیارکرنا چاہیے کہ اس سے جگ ہنسائی نہ ہو انہوں نے کہاکہ کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہئے ہمارے لئے سب قابل احترام ہیں، شریعت اورہماری قومی روایات کا تقاضا ہے کہ جو بھی اس پارلیمان کی بے توقیری کرے اورکردارکشی کرے اسے ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں ہونا چاہئیے۔انہوں نے کہاکہ راجہ پرویز اشرف اورسردارایازصادق کو ایوان کی بے توقیری کے تدارک اورکوڈ آف کنڈکٹ کے ضمن میں اپناکرداراداکرنا چاہیے۔