اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) اردن سے ہر سال شائع ہونے والے میگزین ''دی مسلم 500'' نے وزیراعظم عمران خان کو اسلامی دنیا کا با اثر ترین رہنما قرار دیا ہے۔ میگزین ہر سال دنیا بھر سے بہترین خدمات کی فراہمی پر پانچ سو مسلمان رہنمائوں کی فہرست جاری کرتا ہے۔ وزیراعطم عمران خان کا نام 1992ء میں بھی میگزین نے شائع کیا تھا۔ اس وقت ان …
اردن سے ہر سال شائع ہونے والے میگزین ”دی مسلم 500” نے وزیراعظم عمران خان کو اسلامی دنیا کا با اثر ترین رہنما قرار دے دیا وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ آر ایس ایس کی پالیسیوں پر مبنی بھارت کا چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے ،میگزین کے چیف ایڈیٹر ایس عبداللہ سچلیفر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) اردن سے ہر سال شائع ہونے والے میگزین ”دی مسلم 500” نے وزیراعظم عمران خان کو اسلامی دنیا کا با اثر ترین رہنما قرار دیا ہے۔ میگزین ہر سال دنیا بھر سے بہترین خدمات کی فراہمی پر پانچ سو مسلمان رہنمائوں کی فہرست جاری کرتا ہے۔ وزیراعطم عمران خان کا نام 1992ء میں بھی میگزین نے شائع کیا تھا۔ اس وقت ان کی قیادت میں پاکستان نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ رواں سال کشمیر سمیت دیگر باہمی تنازعات کے پر امن حل کے ذریعے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی پیشکش، اقدامات کے باعث ان کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل، تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذر الرحمن، ملالہ یوسفزئی، اکبر احمد، جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر فرحت حسین اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو دنیا کے پانچ سو سب سے زیادہ با اثر مسلمان رہنمائوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اردن میں ہر سال دنیا بھر سے پانچ سو با اثر ترین مسلمان رہنمائوں کی فہرست شائع کی جاتی ہے۔ رواں سال ”مین آف ایئر 2020” میں دی مسلم 500 کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو بھی با اثر مسلمان رہنمائوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اردن کے دی رائل اسلامک سٹریٹجک سٹڈیز سینٹر کی جانب سے رواں سال ”دی مسلم 500” کے گیارہویں ایڈیشن میں وزیراعظم عمران خان کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ان کو 2018ء میں اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سے تنازعات کے پر امن حل اور امن و امان کے قیام کے حوالہ سے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ دی مسلم 500 کے چیف ایڈیٹر ایس عبداللہ سچلیفر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب عمران خان نے کینسر کے مریضوں کے علاج اور تحقیق کیلئے خصوصی ہسپتال بنانے کے لئے فنڈ اکٹھے کرنے کی مہم شروع کی تھی تو میں اس وقت بھی بہت متاثر ہوا تھا لیکن ان کے کریڈٹ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب انہوں نے اگست 2018ء میں حکومت سنبھالی تو عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے ساتھ امن و امان کا قیام ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ میگزین نے امریکی کانگریس کی رکن رشیدہ تلیب کو بھی ویمن آف دی ایئر کے اعزاز سے نوازا ہے۔ وزیراعظم عمران خان باہمی تجارت اور تنازعہ کشمری کے حل کے لئے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کشمیر کا مسئلہ جو ایک لمبے عرصے سے حل طلب ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے۔ میگزین نے بھارت کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانے کے حوالہ سے وزیراعظم کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت سے کسی قسم کی کنفٹریشن نہیں چاہتے جبکہ بھارت نے اپنے رویہ سے ہمیشہ پاکستان کو کم اہمیت دی ہے جبکہ پاکستان متعدد بار کشمیر سمیت دیگر باہمی تنازعات کے پر امن حل پر زور دے چکا ہے۔ در حقیقت بھارت نے عمران خان کی امن کی خواہش کے برعکس ہمیشہ انتہا پسندانہ اقدامات کئے ہیں اور اگست 2019ء میں بھارتی حکومت نے اپنے انتہا پسندانہ اقدامات کے تحت بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا اور بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پروفیسر عبداللہ سچلیفر (SCHLEIFER) نے اس حوالہ سے مزید کہا کہ بھارت کا موجودہ وزیراعظم اور اس کی حکمران جماعت کی تخلیق ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سوائم سیول سنگ (آر ایس ایس) نے کی ہے۔ مودی اور اس کے کئی وزراء آر ایس ایس کے رکن ہیں اور یہ تنظیم انتہا پسند ہندو طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی یہی بڑی خوبی ہے کہ و ہ ایک ایسی قوم اور ہمسایہ کے ساتھ پر امن تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں جس نے اس حوالہ سے نہ کبھی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب یہ نظر آتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ آر ایس ایس کی پالیسیوں پر مبنی بھارت کا چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔ میگزین نے عمران خان کی سپورٹس کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی سفر میں عام آدمی کی فلاح و بہبود اور علاج معالجہ پر روشنی ڈالنے کے علاوہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے ان کی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا ہے۔ میگزین کے چیف ایڈیٹر نے کہا ہے کہ میں چیف ایڈیٹر ہی تھا اور میں نے ان کو ان کا نام با اثر ترین مسلمان رہنمائوں کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے اس لئے نامزد کیا تھا کیونکہ اس وقت انہوں نے کرکٹ کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ان کی قیادت میں پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے علاوہ میگزین ”دی مسلم 500” دیگر کئی پاکستانیوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے جن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، مذہبی سکالر مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل، تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذر الرحمن، مصنف و ڈرامہ نگار اکبر احمد، اسلامک سکالر جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر فرحت حسین، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی شامل ہیں۔








