وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماداظہر کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماداظہر نے کہا ہے کہ شہباز شریف ایسی باتیں کر رہے تھے جیسے وہ کسی اور ملک سے آئے ہوں، اپوزیشن نے ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ اہل اپوزیشن ہے اور چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی …

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماداظہر نے کہا ہے کہ شہباز شریف ایسی باتیں کر رہے تھے جیسے وہ کسی اور ملک سے آئے ہوں، اپوزیشن نے ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ اہل اپوزیشن ہے اور چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے، تمام باتیں کھوکھلی اور محض الفاظ کا پلندہ تھیں، پریس کانفرنس میں جن مسائل کا ذکر کیا وہ ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں، عام انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں ، ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا تھا کہ جتنا مال بنا سکتے ہو بناﺅ، اس مقصد کیلئے انہوں نے ہر ادارے کو کمزور کیا اور منی لانڈ رنگ کیلئے معاون لوگ ان اداروں میں بٹھائے، اشرافیہ کا طعنہ دینے والوں کی پریس کانفرنس خود اشرافیہ کی نمائندگی تھی، ہم خیبر پختونخوا میں یونیورسل صحت بیمہ پروگرام متعارف کرا چکے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2سال کے دوران تقریباً 10 ارب ڈالر کے قرضے واپس کئے، ن لیگ کے دور میں عالمی اداروں نے پاکستانی معیشت کو ڈاو¿ن گریڈ کیا جسے ہم مثبت کی طرف لیکر آئے ہیں، ن لیگ کی کرپشن اور غلط پالیسیوں کے باعث ہمیں معاشی بہتری کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑے، ہمارے دور میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 20 ارب سے کم ہو کر 3ارب ڈالر تک آ گیا ہے،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا جو اب مستحکم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دونوں وفاقی وزراءنے پیر کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس کے کابینہ کے اراکین نے دو سال مکمل ہونے پر اپنی گورننس اور کارکردگی کے حوالے سے عوام کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لیگی رہنماﺅں نے اس کا رکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کی جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ کوئی اہل اپوزیشن ہے اور باریک بینی سے چیزوں کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے جو باتیں کیں وہ کھوکھلی اور محض الفاظ کا پلندہ تھیں اور ہم عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں اپوزیشن نے جن مسائل کا ذکر کیا وہ تمام ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں اور محض عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن عوام عام انتخابات میں انہیں پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ غریب عوام کا خون چوسا ہے، ان کا صرف ایک ہی ایجنڈا تھا کہ جتنا مال بنا سکتے ہو بناﺅ اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہر ادارے کو کمزور کیا اور منی لانڈ رنگ میں سہولت دینے والے افراد کو ان اداروں میں تعینات کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ ہمیں اشرافیہ کا طعنہ دے رہے تھے لیکن ان کی اپنی پریس کانفرنس خود اشرافیہ کی نمائندگی کر رہی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال کے دوران صحت کے شعبہ میں نمایاں بہتری لائی ہے اور ہم نے خبیر پختونخوا کیلئے یونیورسل صحت بیمہ پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔ بی آر ٹی کے آغاز سے پشاور میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس توانائی بحران کا لیگی ہنماﺅں نے ذکر کیا آج جتنی بھی بجلی مہنگی ہوئی ہے یا ہو گی اس کے ذمہ دار ان کے ادوار میں ہونے والے آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے ہیں جسے انہوں نے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان معاہدوں کے حوالے سے عوام کو ریلیف دینے کی نظر سے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وہ حکمران تھے جن کی وجہ سے صنعتی گراوٹ پیدا ہوئی اور پاکستانی مصنوعات کی قدر کم ہوئی۔ انہی لوگوں نے مصنوعی طور پر ڈالر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کے نتائج قوم بھگت رہی ہے۔ انہوں نے ہر وہ مصنوعی اور بناوٹی کام کیا جس کے ذریعے عوام کو ہمیشہ کیلئے مہنگائی کی دلدل کی جانب دھکیلا ۔ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماداظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں جس کے ذریعے جان بوجھ کر ملک کو دیوالیہ ہونے کی جانب دھکیلا گیا۔ تجارتی خسارے میں اضافہ اور معاشی ترقی کو منفی صفر کی طرف لے جایا گیا، بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے ان کی معیشت کو ڈاﺅن گریڈ ظاہر کیا اور ایسے فیصلے کئے کہ آنے والی حکومت کیلئے مشکل پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو منظر ہے ہمیں اس کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑے ہیں، ان کے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم رہ گئے تھے لیکن ہم نے دن رات محنت کر کے ان ذخائر میں اضافہ کیا ہے۔ اڑھائی ارب کی سبسڈی پر ہم نے پہلی مرتبہ سوچنا شروع کیا کہ اس میں ضرور کوئی سازش ہے، ریکوڈک، کار کے اور ایف اے ٹی ایف کے مسائل بھی انہی کے پیدا کردہ ہیں، ہم نے ریکوڈک اور کار کے کو درست کیا اور اب ایف اے ٹی ایف کیلئے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے بنگلہ دیش اور بھارت کی معیشت کو بھی نقصان ہوا لیکن پاکستان کی معیشت میں خطے کے اعتبار سے سب سے کم گراوٹ آئی جو مضبوط کوششوں سے ممکن ہوا۔ ہم نے کنسٹرکشن کیلئے پیکیج دیا اور برآمدات میں اضافہ کیا، مشکل معیشت کو سخت فیصلے کر کے بہتری کی طرف لے کر گئے لیکن ابھی بھی بڑے اجارہ دار موجود ہیں جن پر ہم نے ہاتھ ڈالنا ہے۔ آنے والے مہینوں اور ہفتوں میں مزید بہتری لائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ آج جوصورتحال ہے اس کی ذمہ دار پچھلی حکومت ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2سال کے دوران تقریباً 10 ارب ڈالر کے قرضے واپس کئے، سخت فیصلے نہ کرتے تو اب ملک دیوالیہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں”کارکے“اور ”ریکوڈک“کے معاملات خراب ہوئے، ہمیں معلوم ہے جب کسی مافیا پر ہاتھ ڈالا جائے تو سخت ردعمل بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی دو جماعتوں نے 35سال میں جو بگاڑ پیدا کیا اس کو ٹھیک کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت یوٹیلیٹی سٹورز کی سیل میں 7گنا اضافہ ہوا ہے، چینی پر ٹریڈرز کے لیے فکس ٹیکس کو کم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شوگر انڈسٹری کو دی گئی سبسڈی کا حساب کیوں نہیں لیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گندم اور چینی کی درآمد کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے، اس اقدام سے ذخیرہ اندوزوں کا سٹاک بھی باہر آ جائے گا، ہم نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیر اطلاعات نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے دو بڑے چیلنج ہیں جن میں سے ایک پنشن فنڈ اور دوسرا پاور سیکٹر کا مسئلہ ہے، آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے آج بجلی مہنگی ہے کیونکہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے جتنے بھی بین الاقوامی معاہدے ہوتے ہیں ان کی پاسداری کرنا ہوتی ہے لیکن ہم ان معاہدوں کو عوام دوست بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں جس کیلئے ان آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات بھی کئے۔ قابل تجدید توانائی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے جس کیلئے مشترکہ مفادات کونسل میں چیزوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ بجلی کے ترسیلی نظام اور لائن لائسز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس میں بھی بہتری لا رہے ہیں جس کیلئے بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے جب تک پیداواری لاگت اور لائن لائسز کم نہیں ہوتے اور انرجی مکس کی طرف نہیں بڑھا جاتا علاقائی مسابقت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ ہو اور عوام کو ریلیف ملے اور آئی پی پیز کے ریٹ کم کئے جا سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے مارک اپ فنانشل کاسٹ کی وجہ سے بھی بڑھ جاتے ہیں، پنشن فنڈ کا حجم کہاں پہنچ چکا ہے جس میں بہتری لانے کیلئے وزیراعظم نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں اور یہ تمام مسائل سابقہ حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا اور ہمارے قائد کا عزم ہے کہ ملک کو بہتری کی جانب لیکر جائیں گے ۔ جب ہم جائیں گے بہترین ادارے اور بہترین لوگ چھوڑ کر جائیں گے تاکہ عوام مستفید ہو سکیں۔