وفاقی وزراءسینیٹر شبلی فراز اور سیّد فخر امام کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) وفاقی وزراءاطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ درآمد شدہ گندم کی 66 ہزار ٹن کی پہلی کھیپ کراچی میں لنگر انداز ہو گئی ہے، درآمدی گندم مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی قیمتوں میں سو سے ڈیڑھ سو روپے تک کمی آ گئی ہے، ستمبر تک 4 لاکھ 88 …

اسلام آباد ۔ 26 اگست (اے پی پی) وفاقی وزراءاطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ درآمد شدہ گندم کی 66 ہزار ٹن کی پہلی کھیپ کراچی میں لنگر انداز ہو گئی ہے، درآمدی گندم مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی قیمتوں میں سو سے ڈیڑھ سو روپے تک کمی آ گئی ہے، ستمبر تک 4 لاکھ 88 ہزار ٹن کے چار جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے جس کے بعد مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی، مستقبل میں اس بحرانی کیفیت سے بچنے کیلئے قلیل، طویل اور وسط مدتی حکمت عملی ابھی سے اختیار کرنا شروع کر دی ہے، معیاری اور خالص بیجوں کی نشاندہی کا آغاز ہو گیا ہے جس کی نشاندہی بروقت کر دی جائے گی تاکہ دھان، گندم، گنا، مکئی اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار دونوں وفاقی وزراءنے پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ درآمد شدہ گندم کی پہلی کھیپ کراچی میں لنگر انداز ہو گئی ہے آئندہ دو روز میں مزید گندم پہنچ جائے گی، درآمدی گندم مارکیٹ میں پہنچنے سے قبل ہی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، وزیراعظم عمران خان اشیاءخوردونوش بالخصوص آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جنہوں نے مصنوعی بحران پیدا کرکے قیمتوں میں اضافہ کیا اورعوام براہ راست متاثر ہوئے، کووڈ ہو یا کوئی بھی بحرانی صورتحال سندھ حکومت نے ہمیشہ مسائل پر سیاست کی ہے اور اپنی نااہلی اور بدعنوانی کو چھپانے کیلئے اس کا الزام وفاق پر عائد کیا، وفاق نے 14 کھرب سے زائد کے جو فنڈ سندھ کو دیئے وہ کہاں لگائے گئے ان کا انہیں جواب دینا ہو گا، سندھ کے شہری علاقوں کے علاوہ دیہات کی صورتحال ابتر ہے، انہوں نے لاڑکانہ کو کراچی بنانے کی بجائے کراچی کو لاڑکانہ بنا دیا، سندھ کے حکمران بے نقاب ہو رہے ہیں، نواز شریف جن مقدمات میں مطلوب ہیں اور جس عرصہ کیلئے انہیں ضمانت دی گئی تھی انہوں نے قانون کا کھلم کھلا مذاق اڑایا اور لندن کی کھلی فضاﺅں میں کافی پی رہے ہیں، انہیں واپس لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پی آئی ڈی میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت ملک میں اشیاءخوردونوش بالخصوص گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو میڈیا کی وساطت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان مسلسل ان قیمتوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس حوالہ سے ضروری ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ کی بنیادی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، حکومت ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کیلئے بھی کوشاں ہے کیونکہ اس کا اثر براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی پہلی کھیپ کراچی میں لنگر انداز ہو گئی ہے اور مارکیٹ میں درآمدی گندم پہنچنے سے پہلے قیمتوں میں 100 سے ڈیڑھ سو روپے تک کی کمی آ گئی ہے، ستمبر میں مزید گندم آنے سے قیمتوں میں خاصی حد تک کمی واقع ہو گی، ستمبر کے آخر تک 4 لاکھ 88 ہزار ٹن گندم کی کھیپ پاکستان پہنچ جائے گی، اس کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ ہر موقع پر سیاست کی ہے اور اپنی نااہلی اور بدعنوانی کو چھپانے کیلئے الزام وفاق پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ 14 کھرب سے زائد کا پیسہ جو انہیں فراہم کیا گیا وہ سندھ کی بہتری پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا، آیا ان کا مقصد گذشتہ روز سینٹ میں پیش کردہ بل کی مخالفت کرنا تھا یا کوئی اور وجہ تھی ان کا جواب انہیں دینا پڑے گا۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا کہ گندم بحران کچھ ماہ پہلے شروع کیا گیا، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ گندم کی قلت پیدا کرنے کے طریقہ کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت اور بین الاقوامی قیمت میں کافی فرق آ گیا تھا، کراچی اور پشاور میں گندم ملی، تکنیکی طور پر 20 سے 25 دن کی کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا، پہلا جہاز گندم لے کر پہنچ چکا ہے، گندم کی پیداوار بڑھانے کے لئے بہتر بیج کی ضرورت ہے۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ گندم 20 ملین ایکڑ پر کاشت ہوتی ہے جس کے لئے 11 لاکھ ٹن بیج کی ضرورت ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 4 لاکھ کوالٹی گندم بیج کی تشخیص کریں۔ انہوں نے کہا کہ آٹا، گندم بحران چند ماہ قبل شروع ہوا جس کی وجہ ذخیرہ اندوزی تھی، 8 سے 9 سال بعد پہلی بارگندم کی قیمتوں میں فرق پیدا ہوا، حکومت نے آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا، ستمبر میں درآمدی گندم آنے سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، قیمتوں میں استحکام کیلئے پنجاب حکومت نے سرکاری گندم سبسڈی پر جاری کی ہے، گندم کے حوالہ سے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کی تباہی پوری قوم نے دیکھ لی ہے لیکن دیہات کی اس سے بھی بری صورتحال ہے، انہوں نے لاڑکانہ کو کراچی بنانے کی بجائے کراچی کو لاڑکانہ بنا دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ایسا مسئلہ ہے جس سے پوری قوم آگاہ ہے لیکن بلاول زرداری اور مراد علی شاہ ہی اس مسئلہ سے واقف نہیں، یہ لوگ قوم کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں اور مزید ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہوں نے صرف یہ الزام نہیں لگایا کہ سندھ میں بارشوں کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، اپنی قیادت کی بجائے انہوں نے پارلیمانی مفادات حاصل کئے اور قوم کو نقصان پہنچایا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف جن مقدمات میں مطلوب ہیں اور جس عرصہ کیلئے انہیں ضمانت دی گئی تھی انہوں نے اس مقصد کیلئے اسے استعمال نہیں کیا بلکہ قانون کا کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے اور اب مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کر رہے ہیں، جنہوں نے منی لانڈرنگ کی انہوں نے گذشتہ بلوں کی مخالف کی، جتنے قانونی ذرائع ہیں نواز شریف کو واپس لانے کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کا ایجنڈا اور ترجیح عوام کو خوشحال بنانا ہے کہ کس طرح ہم ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں، ہمارا مقصد قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہے، اپوزیشن کی جماعتوں کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، ان میں وہ کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ قوم کو حکومت کے خلاف اکسا سکیں، ان کا گٹھ جوڑ اپنے کریمنل مفادات کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔