اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے نیب ترمیمی رولز کا مجوزہ مسودہ سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔جمعرات کو عدالت عظمی میں نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے 38 صفحات پر مشتمل مجوزہ مسودے میں بتایا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 34 کے تحت رولز تیار کیے گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نیب …
قومی احتساب بیورو نے نیب ترمیمی رولز کا مجوزہ مسودہ سپریم کورٹ میں جمع کرادیا
اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے نیب ترمیمی رولز کا مجوزہ مسودہ سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔جمعرات کو عدالت عظمی میں نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے 38 صفحات پر مشتمل مجوزہ مسودے میں بتایا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 34 کے تحت رولز تیار کیے گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نیب شکایت وصولی کے ایک ماہ کے اندر معاملہ کو ریجنل بورڈ کے سامنے رکھتا ہے، انکوائری کا عمل چار ماہ کے اندر مکمل ہوتا ہے، چیئرمین نیب کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ انکوائری کی مدت میں مزید تین ماہ توسیع بھی کر سکتے ہیں ،نیب کا تفتیشی افسر چار ماہ میں تفتیش مکمل کر کے ریجنل بورڈ کے سامنے رکھتا ہے،ضرورت کے تحت مجاز اتھارٹی تحقیقات کی مدت کو بڑھا بھی سکتی ہے، تحقیقات کا عمل مکمل ہونے کے بعد چیئرمین نیب ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیتے ہیں، ریفرنس دائر کرنے یا نہ کرنے کا حتمی اختیار چیئرمین نیب کے پاس ہے، چیئرمین نیب کے فیصلے پر نیب اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی،چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد ریفرنس ایک ماہ میں دائر کیا جاتا ہے، چیئرمین نیب کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ انکوائری کے دوران کسی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں۔ مجوزہ مسودے میں بتایا گیا ہے کہ کرپشن کے ملزم کی گرفتاری کی گائیڈ لائن چئیرمین نیب جاری کریگا،کرپشن کے ملزم کی گرفتاری کی گائیڈ لائنز پر ہر صورت عمل کیا جائے گا،کرپشن کے ریفرنس کے فائلوں کی حتمی منظوری چئیرمین نیب دیں گے،کرپشن ریفرنس فائل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی چئیرمین نیب کا ہوگا،چئیرمین نیب ہی کرپشن ریفرنس فائل کرنے کی گائیڈ لائن جاری کریگا،چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد ریفرنس ایک ماہ بعد دائر کیا جائے گا۔ نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے مجوزہ ڈرافٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیب وزارت داخلہ کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کسی بھی ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے، بینک ڈیفالٹ کی صورت میں ریکوری کر کے تین فیصد رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروائی جاتی ہے،کرپشن کے پیسے کی ریکوری کا 25 فیصد فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروایا جاتا ہے،جبکہ ریکوری اینڈ گرانٹس رولز 2002 ء کے تحت لوٹی گئی دولت کا 25 فیصد حصہ نیب کو تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ قومی احتساب بیور کی جانب سے جمع کروائے گئے مجوزہ ڈرافٹ میں مزید بتایا گیاہے کہ نیب میں تقرریاں سلیکشن بورڈ کے ذریعے کی جاتی ہیں،سلیکشن بورڈ گریڈ 21 کے تین نیب افسران پر مشتمل ہوتا ہے،نیب میں کام کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والے فرد کے لیے گریڈ سترہ کے افسر کی جانب سے کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہے،عوامی مفاد کے تحت مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد افسران کا تبادلہ ایک کیڈر سے دوسرے کیڈر میں بھی ہو سکتا ہے۔ مجوزہ رولز میں مزید بتایا گیا ہے کہ نیب میں گریڈ 19 سے اوپر تقرریوں کا اختیار چئیرمین نیب کے پاس ہوگا،گریڈ 16 سے 18 تک کی تقرریاں ڈی جی ہیومن ریسورس کریگا،گریڈ 1 سے 15 تک کی تقرریاں ڈائریکٹر ہیومن ریسورس کا اختیار ہوگا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 جولائی 2020 ءکے حکمنامہ میں قومی احتساب بیورو کو نیب رولز بنانے کا حکم دیا تھا، عدالتی حکم میں قومی احتساب بیورو کو نیب قانون کی شق 34 کے تحت رولز بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ چئیرمین نیب اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں کیسے کر سکتا ہے؟









