ڈاکٹر محمدعظیم خان کاقومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں دو روزہ سالانہ سیمینار 2020 سے خطاب

اسلام آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل( پی اے آر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر محمدعظیم خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری گنے کے پیداواری اضافہ و فروغ کے منصوبے کا بنیادی مقصد تمام صوبوں میں گنے کی پیداوار میں اضافے کے لئے رعایتی نرخوں پر معیاری مشینری اور کھاد کی فراہمی کرنا ہے جبکہ اس کے …

اسلام آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل( پی اے آر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر محمدعظیم خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری گنے کے پیداواری اضافہ و فروغ کے منصوبے کا بنیادی مقصد تمام صوبوں میں گنے کی پیداوار میں اضافے کے لئے رعایتی نرخوں پر معیاری مشینری اور کھاد کی فراہمی کرنا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کماد کی ترقی دادہ اقسام کی تیاری، معیاری بیج کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی بھی بنیادی مقاصد میں شامل ہے ۔ اس سے کماد کی فی ایکڑ پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں کمی آئے گی ۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت جاری منصوبہ برائے "گنے کی پیداوارمیں اضافہ و فروغ ” کی جانب سے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں منعقدہ دو روزہ سالانہ سیمینار 2020 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیاجس میں ملک بھر سے زرعی سائنسدانوں و نمائندوں نے شرکت کی اس کے علاوہ سیکرٹری جنرل، پاکستان شوگر ملز ایسو سی ایشن، اسلام آباد، ڈاکٹر شاہد افغان، سی ای او، پنجاب شوگر ریسرچ بورڈ، فیصل آبادبشمول ایکسٹنشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، ڈاکٹر محمدعظیم خان نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ گنا ایک کثیر جہتی فصل، خوراک، فیڈ اور توانائی کے حصول کا ذریعہ ہے اور پاکستان کی زرعی تحقیقاتی کونسل انسانی وسائل کی ترقی اور اس سے وابستہ سہولیات کے ذریعے ملک میں گنے کی فصلوں کی تحقیق اور ترقی کو مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ ڈاکٹر عظیم خان نے زراعت کے شعبے کو مشینی بنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے جدید زرعی طریقوں کو اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو نئی اقسام اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے باہم ملکر کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گنے کے بریڈرز کو فائدہ پہچائے جانے کے لئے پی بی آر (پلانٹ بریڈرز رائٹس) پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں نگاب(نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کی ٹیم پی بی آر سسٹم کے ساتھ پیٹنٹ کی ترقی اور منظوری کی تربیت کے لئے معاونت کر سکتی ہے جو بنیادی، پہلے سے بنیادی اور مصدقہ بیج تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو گی ڈاکٹر شاہد افغان، سی ای او، شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب نے اپنے محکمے کی سرگرمیوں اور گنے کے فروغ کے متعلق اقدامات سے شرکاءکو آگاہ کیا۔ گنے کی صنعت کی ترقی کے لئے مقامی سطح پر بریڈنگ پروگرام بہت مددگار ثابت ہو گا۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے زراعت کو خطرات لاحق ہیںجس کے لئے باہم مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قدرتی ماحول اور سازگار موسم کے باعث گنے کی فصل میں پیداواری اضافہ ممکن ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ کاشتکار جدید ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہوں نیز گنے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لئے منظور شدہ اقسام کی کاشت کو یقینی بنایا جائے۔ ڈاکٹر ناصر ملک، ایگری ایکسٹنشن بورڈ، کے پی کے نے چپ بڈنگ بیج کی ٹیکنالوجی کی تجویز پیش کی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ نیز بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے اور اس کے تجربات بھی کئے جا چکے ہیں جبکہ کسانوں کو 115 چپ بڈ مشینیں فراہم کی گئیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت بیج کی بیجائی اور کھاد کا منصفانہ استعمال بھی زرعی پیداوار کو بڑھانے میں مددگار ہیں لہذا کسی بھی فصل کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں یہ اقدامات نا گزیر ہیں۔ ڈاکٹر غلام محمد علی، ممبر پی ایس ڈی پی اے آر سی نے سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور اس بات پر زور دیا اس طرح کے معیاری سیمینارز سے معلومات کا تبادلہ انتہائی ضروری ہے تاکہ نہ صرف کماد بلکہ دیگر فصلات کی بہتر تحقیق اور مشکلات کا سدباب کیاجا سکے بلکہ ملک کوزرعی خود کفالت کی منزل کی جانب گامزن کیا جا سکے۔