جنیوا۔ 29 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے امریکی ریاست وسکونسن کے شہر کینوشا میں سیاہ فام شخص پر پولیس اہلکار کی فائرنگ کو طاقت کا بے تحاشا استعمال اور نسلی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔ سیاہ فام شخص جیکب بلیک پر پولیس اہلکار کی فائرنگ کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید فام پولیس اہلکار نجیکب بلیک کے …
کینوشا میں سیاہ فام شخص پر پولیس اہلکار کی فائرنگ طاقت کا بے تحاشا استعمال اور نسلی امتیاز پر مبنی اقدام ہے، او ایچ سی ایچ آر
جنیوا۔ 29 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے امریکی ریاست وسکونسن کے شہر کینوشا میں سیاہ فام شخص پر پولیس اہلکار کی فائرنگ کو طاقت کا بے تحاشا استعمال اور نسلی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔ سیاہ فام شخص جیکب بلیک پر پولیس اہلکار کی فائرنگ کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید فام پولیس اہلکار نجیکب بلیک کے تین بچوں کے سامنے اسے سات گولیاں ماریں۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیشلٹ کے ترجمان روپرٹ کول ول نے کمیشن کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ سفید فام پولیس اہلکار کی طرف سے جیکب کو سات گولیاں مارنا طاقت کا بے تحاشا اور بلاجواز استعمال ہے جو بین الاقوامی معیار کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کی وڈیو اور تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ پولیس اہلکار کا طرز عمل نسلی تعصب پر مبنی ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جیکب بلیک پر فائرنگ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرس ہوتے ہیں کینوشا شہر اور بعد ازاں پوری وسکونسن ریاست میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ان ہنگاموں کے دوران ایک لڑکے کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کے شرکا پر فائرنگ کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک اور تیسرا زخمی ہو گیا تھا۔ روپرٹ کول ول نے احتجاجی مظاہرے کے شرکا پر فائرنگ کو امریکہ میں گن کنٹرول کے قوانین میں خامیوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ کشیدہ ماحول میں ایک 17 سالہ لڑکے کا خودکار رائفل لے کر گھر سے باہر نکل جانا اور مجمع میں شامل لوگوں پر بلا رکاوٹ فائرنگ کرنا ناقابل فہم ہے۔روپرٹ کول ول نے کہا کہ امریکی حکام کو اس صورتحال کا نوٹس لینے اور ضروری اقدامات کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔









