9 محرم الحرام، مرکزی جلوس حسینیہ ایرانیاں پہنچ کر اختتام پزیر ہوگیا

کراچی۔29 اگست(اے پی پی) نواسہ رسول جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین کی لازوال قربانیوں اور ان کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس ہفتہ کو نشتر پارک سے بوتراب اسکاﺅٹس کی قیادت میں برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں نمائش، پیپلز چورنگی، پریڈی اسٹریٹ، صدر، تبت سینٹر، جامع کلاتھ، بولٹن مارکیٹ سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ …

کراچی۔29 اگست(اے پی پی) نواسہ رسول جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین کی لازوال قربانیوں اور ان کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس ہفتہ کو نشتر پارک سے بوتراب اسکاﺅٹس کی قیادت میں برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں نمائش، پیپلز چورنگی، پریڈی اسٹریٹ، صدر، تبت سینٹر، جامع کلاتھ، بولٹن مارکیٹ سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ قبل ازیں نشتر پارک میں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے فلسفہ شہادت اور کربلا کی عظیم قربانی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام حسین اور ان کے خانوادے نے کربلا میں عظیم قربانیاں دیں جس کے سبب اسلام سربلند ہوا۔ جلوس میں ذوالجناح، علم، تعزیہ، شبیہ اور دیگر تبرکات بھی تھے۔ شرکاءراستے بھر ماتم اور نوحہ خوانی کرتے رہے۔ جلوس کے شرکاءکے لئے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی نمازظہرین باجماعت کا انعقاد کیا گیا۔ جلوس عزا میں شریک ہزاروں عزاداروں نےSOPsکا خیال رکھتے ہوئے ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید محمدحیدر نقوی کی اقتداءمیں نماز باجماعت ادا کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منتظر مہدی نے کہاکہ سید اشہداءعلیہ السلام نے ہماری ذمہ داری معین کر دی ہے اور ہم ان کے ماننے والے ہیں ہم میدان میں اپنی تعداد کم ہونے سے نہیں گھبراتے اور نہ ہی شہادت سے ڈرتے ہیں کیونکہ انسان کا مقصد جتنا بلند ہو گا اسے اتنی ہی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہماری تعداد کم سہی لیکن ہم اس مکتب سے تعلق رکھتے ہیں کہ جس کے امام کا سر اقدس کٹ کر بھی نیزوں پر بلند ہو کر حسینی فتح اور یزیدی شکست کا اعلان کرتا ہے۔ اس موقع پر شرکاءجلوس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور دخل اندازی کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھارتی جارحیت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔جلوس کے راستے میں پانی، شربت اور دودھ کی سبیلیں بھی لگائی تھی تھیں۔ جلوس کے راستے میں مختلف انجمنوں نے طبی کیمپ بھی لگائے تھے۔ جلوس کے ہمراہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موجود تھا۔ جلوس کی سخت نگرانی اور حفاظت کی گئی اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی نگرانی کی جاتی رہی۔ جلوس کے ہمراہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موجود تھی۔ اونچی عمارتوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار تعینات تھے۔ اطراف کی گلیوں اور سڑکوں کو کنٹینر اور ٹرک کھڑے کر کے بند کر دیا گیا تھا۔ تمام بازار اور مارکیٹیں بند تھیں۔ ایم اے جناح روڈ عام ٹریفک کے لئے بند رہا۔