اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشور محرم الحرام 1442ھ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم ِعاشور یعنی دس محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ نے روز ِاوّل سے ہی خاص شرف بخشا ہے۔ اس دن تاریخ ِانسانیت کے بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں، جیسا کہ حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی، جناب …
شہادت امام حسین حق کی فتح، ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور ایثار و قربانی کا استعارہ ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یوم عاشور کے موقع پر پیغام
اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشور محرم الحرام 1442ھ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم ِعاشور یعنی دس محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ نے روز ِاوّل سے ہی خاص شرف بخشا ہے۔ اس دن تاریخ ِانسانیت کے بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں، جیسا کہ حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی، جناب نوح کی کشتی سلامتی سے جودی پہاڑ پراتری، حضرت سیدنا ابراہیم پر نارِ نمرود گلزار ہوئی اور دوسرے خلیفہ حضرت عمر بھی یکم محرم الحرام کو شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم خَاتم اَلنّبِیین صلی اللہ علیہ و علی آ لہ و اصحاٰبہ و سلم کے نواسہ جناب امامِ عالی مقام حضرت ِ امام حسین نے اپنے اہلِ بیت ِاطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلامیں یومِ عاشورکو شہادت پا کر تاریخ اسلام میں اس دن کو قیامت تک کیلئے خاص بنا دیا۔ اس دن نواسہ رسول خَاتم اَلنّبِیین صلی اللہ علیہ و علی آ لہ و اصحاٰبہ و سلم کی شہادت کا عظیم واقعہ ہر سال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ظالم اور باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے وقت آنے پر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شہادت امام حسین در حقیقت حق کی فتح، ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور ایثار و قربانی کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں وہ جذبہ ِصادق عطا کرتا ہے جس کی بدولت ہم بڑی سے بڑی آزمائش کا مقابلہ کر سکتے ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ پاکستانی قوم نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حال ہی میں کورونا وائرس کی عالمی وبا پر کامیابی سے قابو پایا ہے، لیکن اس وبا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں مزید احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید اک اظہار کیا کہ پوری قوم یومِ عاشور کی تقریبات میں بھی علمائے کرام کی مشاورت سے جاری کردہ کورونا سے متعلق حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئیں آج کے دن ہم سب یہ تجدید ِعہدکریں کہ ہم اْسوہ ِحسین پر عمل پیرا ہو کر ہر وہ کام کریں گے جو حق کی سربلندی، عدل و انصاف کے فروغ، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مفید ہو ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم باہمی نفاق، فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو با لائے طاق رکھ کر ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی سال ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی کا سال ثابت ہو، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔









