کامسیٹس نے پاکستان کے پہلے صنعتی بائیو ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل کے لئے کام کی رفتار کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ملک میں برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت میں اضافہ ہو گا

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے کہا ہے کہ کامسیٹس نے پاکستان کے پہلے صنعتی بائیو ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل کے لئے کام کی رفتار کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جامع لائحہ عمل وضع کر لیا ہے تاکہ ملک میں برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت میں اضافہ …

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے کہا ہے کہ کامسیٹس نے پاکستان کے پہلے صنعتی بائیو ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل کے لئے کام کی رفتار کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جامع لائحہ عمل وضع کر لیا ہے تاکہ ملک میں برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے اس سلسلہ میں پیر کو میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صدر مملکت اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے جہلم میں قائم ہونے والے پاکستان کے پہلے بائیو ٹیکنالوجی پارک کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس لئے کامسیٹس نے ایک جامع لائحہ عمل کے خدوخال کومکمل کر لیا ہے تاکہ کام کی رفتار کو بلاتعطل آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی ترقی میں بائیو ٹیکنالوجی ہربل میڈیسن پارک کا کردار عصر حاضر میں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ گذشتہ سال جولائی میں اس جدید ترین بائیو ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے فیصلے کا اعلان ہوا تھا، یہ پارک جمہوریہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا حصہ ہے۔ مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت کامسیٹس نے جہلم میں ٹارچ ہائی ٹیک انڈسٹری ڈویلپمنٹ سنٹراور ٹی آئی بی(تیاآنجن انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیو ٹیکنالوجی) کے تعاون سے پاکستان کے اس پہلے بائیو ٹیکنالوجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام میں اپنی معاونت فراہم کرنی ہے۔ اس منصوبے کے لئے حکومت پاکستان اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کامسیٹس کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو زراعت کی ترقی کےلئے جدید ترین ٹیکنالوجی خصوصاً بائیو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہوگا کیونکہ زرعی بائیو ٹیکنالوجی میں ترقی ہی تجارتی محرکات کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہے، اس لئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی یہ اولین ترجیح میں شامل ہے۔کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، چین میں پاکستانی سفارتخانہ اور پاکستان میں چینی سفارتخانہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کو ملک کی سماجی و معاشی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے سے ہی اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس جدید بائیوٹیکنالوجی پارک کے قیام کا بنیادی مقصد سائنسی مقالہ جات اور تحقیق کو فروغ دینا ہےتاکہ وہ طالب علم جو سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق جدید سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی سائنسی تحقیق اور صلاحیتوں کو مقامی سطح پر نکھار سکیں۔ ڈاکٹر ایس ایم جنیدزیدی نے مزید بتایا کہ گذشتہ سال بین الاقوامی سائنس تنظیموں کے اتحاد (اے این ایس او)کی کامسیٹس نے رکنیت حاصل کی ہے جو ایک بین الاقوامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق ایک فعال غیر سرکاری تنظیم ہے اور یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر قومی سائنسی تنظیموں کا پہلا بین الاقوامی سائنسی فورم بھی ہےاور اس کا مقصد مشترکہ تحقیق اور صلاحیتوں کو آگے بڑھانا ہے۔ اس سلسلے میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لئے مختلف تجاویز دی گئی تھیں جن میں کامسیٹس کےسینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ حال ہی میں کامسیٹس نے مصنوعی ذہانت ، ماحولیاتی امور ، رسک مینجمنٹ ، ریاضی اورباہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ، چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کئے ہیں۔ اس مفاہمت کی یادداشت کے تحت ماحولیاتی اکنامکس سے متعلق چین کی سائنس اکیڈمی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ کمپیوٹر پر مبنی نظام، گرین سپلائی چین کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔