اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ہدف سے 42 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا۔ پیر کو یہاں جاری بیان کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 21-2020 کے پہلے دو ماہ کے مقر ر کردہ ہدف 551 ارب کے مقابلے میں 42 ارب کے اضافہ کے ساتھ 593 ارب اکھٹے کئے ہیں جو …
ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ہدف سے 42 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا‘ مالی سال 21-2020 کے پہلے دو ماہ کے مقر ر کردہ ہدف 551 ارب کے مقابلے میں 42 ارب کے اضافہ کے ساتھ 593 ارب اکھٹے کئے‘ ایف بی آر کا بیان
اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ہدف سے 42 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا۔ پیر کو یہاں جاری بیان کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 21-2020 کے پہلے دو ماہ کے مقر ر کردہ ہدف 551 ارب کے مقابلے میں 42 ارب کے اضافہ کے ساتھ 593 ارب اکھٹے کئے ہیں جو کہ مقر رکردہ ریوینیو ہدف کا 108 فیصد بنتے ہیں۔ پچھلے سال جولائی و اگست میں 582 ارب روپے اکھٹے ہوئے تھے جو کہ اس سال اضافہ کے ساتھ 593 ارب اکھٹے ہوئے ہیں۔ کاروباری کمیونٹی کی کرونا وباءکے باعث معاشی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ماہ جولائی و اگست میں 30.6 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو کہ پچھلے سال 11 ارب روپے کے تھے۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز بھی مرکزی اور خودکار فاسٹر نظام کے تحت حکومت کے کئے گئے وعدے کے مطابق 72 گھنٹوں کے اندر جاری کئے جارہے ہیں۔ ایف بی آر تجارت سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کے لئے بھی کوشاں ہے۔کرپشن سے پاک ایف بی آر کی کوششیں بھی جاری ہیں اور جولائی کے ماہ سے اب تک 76 افسران و اہلکاروں کو برطرف اور معطل کیا جا چکا ہے۔ کووڈ 19 وبا کے تناظر میں بجٹ 2020-21 میں دیئے گئے ریلیف پیکیج کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں آہستہ آہستہ بہتری آ رہی ہے۔ کسٹمز کے فیلڈ دفاتر نے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو اکھٹا کرنے کے لئے بھر پور کوششیں کی ہیں حالانکہ کووڈ 19، کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشیں اور محرم کی چھٹیوں کے باعث ریونیو کو اکھٹا کرنا ایک چیلنج کی صورت اختیار کر گیا۔ ان بارشوں کی وجہ سے اس ماہ کے آخری ہفتہ میں درآمدی کارگو کی کسٹمز کلیرنس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جولائی و اگست کی کل حاصل کردہ کسٹمز ڈیوٹی 92 ارب رہی۔ درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس پچھلے سال کی نسبت کم رہا جس کی بڑی وجہ بھی حالیہ بارشیں تھیں۔ مزید برآں 1600 ٹیرف لائینز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ بھی سیلز ٹیکس کمی کی وجہ بنی۔ سمگلنگ کی لعنت کو ختم کرنے کے وزیراعظم کے وژن کے مطابق ایف بی آر نے ملک گیر اینٹی سمگلنگ آپریشنز کئے جس کے باعث سمگل شدہ اشیاءکی بڑی مقدار ضبط کی گئی۔ صرف اگست 2020 کے ماہ میں پاکستان کسٹمز نے 3.95 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاءضبط کیں جو کہ اگست 2019 میں 2.1 ارب روپے کی تھیں اس طرح 87.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان ضبط شدہ اشیاءمیں کپڑا، سگریٹ، غیر ملکی کرنسی، پٹرولیم اشیائ، منشیات اور دوسرے متفرق اشیاءشامل ہیں۔ مزید برآں لگثری گاڑیاں، سونا اور چھالیہ کی بھی ضبطگی عمل میں آئی۔ کسٹمز کے ملتان، پشاور اور کوئٹہ دفاترنے 1.6 ارب روپے کی سگل شدہ اشیاءکو ضبط کیا ہے جبکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں گوداموں پر چھاپے مار کر سمگل شدہ اشیاءضبط کی گئی ہیں۔









