اصلاحات لانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تحقیق پر مبنی قانون سازی بہترین حل ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ینگ پارلیمنٹرین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ینگ پارلیمنٹرین فورم کے اجلا س سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اصلاحات لانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تحقیق پر مبنی قانون سازی بہترین حل ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ینگ پارلیمنٹرین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان کی 65فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نو جو انو ں کی فلا …

اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اصلاحات لانے اور عوام کی فلاح و بہبود کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تحقیق پر مبنی قانون سازی بہترین حل ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ینگ پارلیمنٹرین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان کی 65فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نو جو انو ں کی فلا ح وبہبود کے لیے نو جوان پا رلیمنٹیر ینز کو پالیسیاں بنا نے کے لیے عملی اقداما ت اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ینگ پارلیمنٹرین فورم کے اجلا س کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر نے نوجوان پارلیمنٹرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے ا ہداف کا تعین کرنے اور ان کے حصول کے لیے واضح منصوبہ بندی کے ذریعے کام کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اور قائمہ کمیٹیاں قانون سازی کے لیے بہترین فورم ہیں اور ان فورمز پر نوجوان پارلیمنٹرین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر موثر قانون سازی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زراعت کے شعبے کی ترقی اور افغانستان کے ساتھ تجارت میں اضافے کو فروغ دینا اْن کی اولین ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پر قائم کمیٹی کی 80فیصد سفارشات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔افغان دوستی گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات پر عملدآمد سے پاک۔افغان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملی ہے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے نوجوان پارلیمنٹرین کو ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے ینگ پارلیمنٹرین فورم کے اراکین کو بھرپور تیاری کے ساتھ ایوان کی کاروائی میں شرکت کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، خزانہ، تعلیم اور سی پیک پر قائم کمیٹیوں کو مزید فعال بنانے کے لیے بھرپور توجہ دی جارہی ہے اور ان کمیٹیوں کے کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے تھنک ٹینکس اور ریسرچرز کی مدد لینے پر غور کیا جارہا ہے۔سپیکر اسد قیصر نے ینگ پارلیمنٹرین پر قواعد و ضوابط پر مکمل عبور اور ایجنڈے پر موجود نکات سے مکمل معاملات اور آ گاہی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر بات کرتے ہو ئے ینگ پارلیمنٹرین کے صدر ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک نے حصہ لینے کے لیے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہا نی کرانے پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا انہو ں نے کہا کہ نو جو ان پا کستان کا اثاثہ ہیں اور نو جو ان پارلیمنٹرین کو نوجوانو ں میں مثبت تبدیلیاں لا نے کے لیے سخت محنت اور یک سوئی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔سیکرٹری جنرل ینگ پارلیمنٹرین فورم عظمیٰ ریاض نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز اور شعور فاونڈیشن برائے تعلیم و آگاہی کے تعاون سے شروع کیے گئے پروجیکٹ، ہم آہنگ فار رائٹ کے اغراض و مقاصد سے فورم کے شرکاء کو آگاہ کیا انہو ں نے نوجوان پارلیمنٹیرین کی قانون سازی میں استداد کار میں اضافے کے لیے تکنیکی معاونت کی فراہمی کے بارے میں بھی فورم کو آ گاہ کیا اس موقع پر اجلاس میں شریک ینگ پارلیمنٹیرین کے ارکین نے فورم کو مزید مستحکم اور فعال بنا نے کے لیے اپنی تجاویز دیں۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی شاندانہ گلزار خان ، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ، رائے محمد مرتضیٰ اقبال، منورہ بلوچ، کنول شہزاد، چوہدری شوکت علی، ناصر خان مزاری، شیزعہ فاطمہ او سید شمعون ہاشمی ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیپس ظفراللہ خان اور شعور فاونڈیشن کے ایگزیکٹوڈائریکٹر نے شرکت کی۔