اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف بڑا واضح ہے انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا، اپوزیشن نے فیٹف قانون سازی کی منظوری کے بدلے 34 ترامیم کی فرمائش کی جسے حکومت نے مسترد کر دیا، وزیراعظم …
قومی دولت لوٹنے والوں کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف بڑا واضح ہے انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا، اپوزیشن نے فیٹف قانون سازی کی منظوری کے بدلے 34 ترامیم کی فرمائش کی جسے حکومت نے مسترد کر دیا،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید خان کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف بڑا واضح ہے انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا، اپوزیشن نے فیٹف قانون سازی کی منظوری کے بدلے 34 ترامیم کی فرمائش کی جسے حکومت نے مسترد کر دیا، وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون انصاف فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے داخلہ شہزاد اکبر کو ہدایات دی ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لئے مشترکہ بل جلد پارلیمنٹ میں لایا جا رہا ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرسینیٹر ذیشان اخونزادہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے اس حوالے سے 10 نکات پر مشتمل بل جلد ایوان میں پیش کیا جائے گا اس بل میں زیادتی کرنے والے کو سخت سے سخت سزا اور سرے عام سزائے موت بھی بل میں شامل ہو گی تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں جبکہ بل میں گواہوں کا تحفظ کسی صورت نام سامنے نہ آسکے اور بلیک میل کرکے صلح کے حوالے سے بھی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا پولیس مقدمہ درج نہ کرے تو پولیس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہو گا۔ سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ حکومت بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لیے سنٹرل لائزڈیٹا بیس بنایا جا رہا ہے جبکہ ایک موبائل فون ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے جس سے سب کو بروقت پیغام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ کام کر رہے ہیں اور اس بل کو وزارت قانون انصاف کے سامنے رکھا جائے گا۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں جو بیان دیا اسے خود تسلیم کیا ہے اب معافی سے بات نہیں چلے گی ، ٹوئٹر پر استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے کہاں ہیں شہباز شریف کے بیان کی پرزور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے خواتین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے 1993ء میں ایون فیلڈ کی جائیداد خریدیں تھی پہلے یہ مانتے نہیں تھے جب عمران خان نے انہیں بے نقاب کیا تو یہ نہیں مانتے تھے جب پانامہ آیا تو حسین نواز نے کہا کہ یہ ہماری ہیں شریف خاندان کو ایک کاغذ دکھانا تھا کچھ نہیں دکھا سکے یہ جھوٹے تھے اس پر ایک اور جھوٹ بولا کہ یہ 2006ء میں خریدا اس کے بعد ایک قطری خط سامنے آیا جو جعلی تھا نواز شریف کو اس پر سزا ہوئی ہے پتنگ اڑانے پر نہیں ملی۔سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ شریف برادران نے جو الزامات وزیراعظم عمران خان پر لگائے انہوں نے عدالت میں ایک ایک کا جواب دیا اور ثبوت بھی پیش کئے ہیں اور عدالت کے روبرو سرخرو ہوئے ۔عدالت نے عمران خان کو صادق آمین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف کی قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے جمہوریت میں قومی مفادات کے لیے اپوزیشن حکومت کا ساتھ دیتی ہے اپوزیشن اس بل کے بدلے میں این آر او مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی دولت لوٹنے والوں کو کسی صورت این آر او نہیں دیں گے جب کشمیر پوری دنیا میں ہیڈ لائن پر تھا تو اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے خلاف سامنے لے آئی اور پھر کرونا پر سیاست شروع کر دی جس میں وزیراعظم کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں کامیابی پر خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کرونا کے دوران مزدور طبقے کو ترجیح دی اور احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا اجراء کیا جسے پوری دنیا نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے فیٹف بل کی منظوری کو 34 بل سے ایک مصالحتی آرڈیننس کے ذریعے آیون فیلڈ مل،منی لانڈرنگ سیمت مختلف چوری پر مفاہمت کی کوشش کی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) این آر او مانگا جسے حکومت نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمران اقتدار میں پیسے بناتے رہے ہیں قومی دولت لوٹنے میں مصروف رہے اور قومی دولت کو ملک سے باہر بھیجا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زینب الرٹ بل کو پاس کرنے میں نو ماہ لگ گئے اب مشترکہ بل اس حوالے سے لایا جا رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لئے وفاقی وزیر قانون انصاف فروغ نسیم اور داخلہ امور کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو ذمہ داریاں دی ہیں شریف خاندان اداروں پر حملے کئے ہیں ۔ شہباز شریف کو عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے۔اس موقع پر سینیٹر ذیشان اخونزادہ نے کہا کہ فیٹف ایک عالمی مسئلہ ہے اس کی ایک تاریخ مقرر ہے اپوزیشن اس مسئلہ پر حکومت کو سپورٹ کرے ہمیں منی لانڈرنگ کے حوالے سے عالمی قانون کو تسلیم کرنا ہے۔







