پہلی دفعہ وزیر اعظم عمران خان صدر اور وزیر اعظم کی مراعات کم کرنے کا بل لا رہے ہیں، سرکاری خرچ پر وی وی آئی پی بننے کے کلچر کا خاتمہ ہو گا، ایف اے ٹی ایف قانون سازی کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا، وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پہلی دفعہ وزیر اعظم عمران خان صدر اور وزیر اعظم کے مراعات کم کرنے کا بل لا رہے ہیں جس کے مطابق اب کوئی بھی صدر اور وزیرا عظم سرکاری رہائش کے ساتھ صرف ایک اور رہائش رکھ سکیں گے۔ اس سے سرکاری خرچ پر وی وی آئی …

اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پہلی دفعہ وزیر اعظم عمران خان صدر اور وزیر اعظم کے مراعات کم کرنے کا بل لا رہے ہیں جس کے مطابق اب کوئی بھی صدر اور وزیرا عظم سرکاری رہائش کے ساتھ صرف ایک اور رہائش رکھ سکیں گے۔ اس سے سرکاری خرچ پر وی وی آئی پی بننے کے کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ ایف اے ٹی ایف قانون سازی کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔ انٹی منی لانڈرنگ بل کی منظوری کے بعد ” ڈالر گرلز اور کیش کیری بوائز” کے ذریعے بیرون ملک رقوم کی ترسیل روکنے میں مدد ملے گی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں اے پی پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کے صدر اور وزرائے اعظم نے سرکاری رہائش کے علاوہ تین تین شہروں میں اپنی رہائشوں کو کیمپ آفسز کا درجہ دے رکھا تھا جس پر کھانے پینے، ٹیلی فون، بجلی ، تیز رفتار، انٹرنیٹ سکیورٹی اور ملازمین کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کفایت شعاری کی پالیسی پر عملی قدم اٹھائے ہیں یہ مراعات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں جو یہ مراعات کم کرنے کے لئے بل لا رہے ہیں۔ اس بل کی وجہ سے صدر اور وزیر اعظم کے مختلف شہروں میں لا تعداد گھروں کو ڈیکلیئر کرنے کی شق کا خاتمہ ہو گا۔ وہ صرف ایک ذاتی رہائش گاہ رکھ سکے گا۔ اس سے کروڑوں کی بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے سرکاری خرچ پر عوامی پیسے سے وی وی آئی پی بننے کے کلچر کا خاتمہ ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف تاریخ ساز قانون سازی ہے۔ اگر یہ قانون سازی نہ ہوتی تو پاکستان بلیک لسٹ میں آ جاتا اور ملک کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑی۔ اب امید ہے کہ پاکستان گریلسٹ سے نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام بھی میرے دور میں عمل میں آیا اور اب ججوں کی تعداد میںاضافہ کا بل بھی منظور کرانے کا مجھے شرف حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی بل کی منظوری سے میڈیکل کے شعبہ میں اصلاحات لائی جا سکیں گی اور ہیلتھ ریفارمز کے لئے عدالتی ٹریبیونل قائم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین اور ادارے جو اوقاف کے پاس چلے گئے تھے، وقف املاک بل کی منظوری سے حکومت انہیں ریکور کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ صرف دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف استعمال ہوگا۔ اپوزیشن کا مطالبہ یہ تھا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف قانون نہ بن سکے۔ ڈالر گرلز یا کیش کیری بوائز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کا سد باب ہو سکے گا کیونکہ یہ غیر قانونی نظام ایک متبادل معاشی نظام بن گیا ہے۔