اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ افراد کے لئے نظام آسان بنانے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبوں میں ایسے آن لائن نظام کو متعارف کرایا جائے جو استعمال میں آسان اور صارفین کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے، پٹواری اور کرپشن کلچر کے خاتمے اور اراضی انتقال و دیگر …
وزیرِ اعظم عمران خان کا تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ افراد کے لئے نظام آسان بنانے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار وزیرِ اعظم عمران خان کا نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ افراد کے لئے نظام آسان بنانے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبوں میں ایسے آن لائن نظام کو متعارف کرایا جائے جو استعمال میں آسان اور صارفین کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے، پٹواری اور کرپشن کلچر کے خاتمے اور اراضی انتقال و دیگر معاملات میں ڈیجیٹلائزیشن متعارف کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے جبکہ کرپشن یا عوام کے لئے بے جا مسائل کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔ وہ جمعرات کو یہاں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، معاونین خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، ڈاکٹر شہباز گل، چئیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر)انور علی حیدر، گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر، سیکرٹری صاحبان اور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری صاحبان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق وزیرِ اعظم کو صوبہ سندھ ، صوبہ خیبرپختونخواہ میں مختلف شہروں کے ماسٹر پلان کے ازسر نو جائزے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت اور انکی تکمیل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں 17شہروں کے ماسٹر پلانز کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تین شہروں کے ماسٹر پلان مرتب کر لئے گئے ہیں چھ شہروں کے پلانز کو دسمبر تک حتمی شکل دے دی جائے گی جبکہ بقیہ آٹھ کے ماسٹر پلان جون 2021 میں مکمل کر لیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی ماسٹر پلان 2047 کے کام کا دسمبر میں آغاز کر دیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری خبیر پختونخواہ نے پشاور، مردان و دیگر شہروں کے ماسٹر پلانز کو از سر نو مرتب کرنے کے حوالے سے پیش رفت اور ٹائم لائنز سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ چیف سیکرٹری کے پی نے بتایا کہ دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ انضمام شدہ علاقوں کے شہروں کے ماسٹر پلانز کو بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کی سہولت کے لئے متعارف کرائے جانے والے آن لائن پورٹل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس پورٹل کا مقصد منظوریوں کے نظام کو آسان بنانا، انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا اور منظوریوں کو مقررہ مدت میں یقینی بنانا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت ، خیبرپختونخواہ اور صوبہ سندھ میں بھی آن لائن پورٹل تیار کیے جا چکے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے تعمیرات کے شعبے سے متعلقہ افراد کے لئے نظام آسان بنانے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام صوبوں میں ایسے آن لائن نظام کو متعارف کرایا جائے جو استعمال میں آسان اور صارفین کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے۔ وزیراعظم نے چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ پٹواری اور کرپشن کلچر کے خاتمے اور اراضی انتقال و دیگر معاملات میں ڈیجیٹلائزیشن متعارف کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کرپشن یا عوام کے لئے بے جا مسائل کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔ کراچی شہر میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر وزیر اعظم نے خاص طور پر ہدایت کی کہ شہر قائد کے ماسٹر پلان کو کم سے کم وقت میں مرتب کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ گرین ایریاز کے تحفظ اور ان کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اربن فارسٹری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کاروباری شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو پیش آنے والی ہر دقت کو ترجیحاتی بنیادوں پر دور کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لئے شعبے سے وابستہ افراد کی تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔







