اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو بہتر کرنے جا رہی ہے، صحت سے متعلق اعدادوشمار کا ایک جامع مرکز قائم کیا جائے گا جس کی صوبوں کے ساتھ شراکت ہو گی، وفاقی پی ایس ڈی پی کے اندر ملک بھر میں صحت کی سہولیات کی اپ گریڈیشن …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی پی ٹی وی پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو بہتر کرنے جا رہی ہے، صحت سے متعلق اعدادوشمار کا ایک جامع مرکز قائم کیا جائے گا جس کی صوبوں کے ساتھ شراکت ہو گی، وفاقی پی ایس ڈی پی کے اندر ملک بھر میں صحت کی سہولیات کی اپ گریڈیشن کیلئے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ پاکستان کی تاریخ میں صحت کی سہولیات کیلئے سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے، کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اس لئے احتیاط اب بھی ضروری ہے۔ جمعہ کو پی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق نے صوبوں اور تمام قومی اداروں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس وبا پر قابو پایا ہے، پاکستانی عوام نے بھی ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر وبا پر قابو پانا ممکن نہیں تھا، پاکستانی قوم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ متحد ہو کر کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران میڈیا نے بھی عوام کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا جس پر میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاﺅن حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال بہتر ہے اور دنیا بھی پاکستانی حکومت کے کامیاب اقدامات کو سراہا رہی ہے، بھارت اور ایران میں کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہاں روزانہ ہزاروں کیسز اور اموات ہو رہی ہیں، کورونا کی دوسری لہر آنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اسلئے عوام احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد جاری رکھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر پوری تیاری کے ساتھ تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، این سی او سی باقاعدگی کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، جب بھی صورتحال خراب لگی تو وفاقی حکومت فوری طور پر ضروری اقدامات اٹھائے گی۔








