کراچی۔4اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپوزشن اتحاد کو انتشار مہم قرارد یتے ہوئے کہاکہ انتشارپھیلائو مہم بھی بری طرح ناکام ہو گی،مسئلہ انتخابات اور دھاندلی نہیں ہے ، اداروں کیساتھ صرف مسئلہ یہ ہے کہ ا?پ نے ہماری کرپشن چھپانے میں ہماری معاونت کیوں نہیں کی، اپوزشن تحریک کا نہ کوئی اخلاقی جواز ہے اورنہ ہی ان کے پاس آئینی جواز ہے ،پاکستان …
انتشارپھیلائو مہم بھی بری طرح ناکام ہو گی،سیاست کے لئے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو شدت پسند گروہ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ، وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کی پریس کانفرنس
کراچی۔4اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپوزشن اتحاد کو انتشار مہم قرارد یتے ہوئے کہاکہ انتشارپھیلائو مہم بھی بری طرح ناکام ہو گی،مسئلہ انتخابات اور دھاندلی نہیں ہے ، اداروں کیساتھ صرف مسئلہ یہ ہے کہ ا?پ نے ہماری کرپشن چھپانے میں ہماری معاونت کیوں نہیں کی، اپوزشن تحریک کا نہ کوئی اخلاقی جواز ہے اورنہ ہی ان کے پاس آئینی جواز ہے ،پاکستان کی بدقستمی ہے کہ سیاست کے لئے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو شدت پسند گروہ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیاتوار کو انصاف ہائوس میں پی ٹی آئی کے رہنما وسیم شہزاد ،پی ٹی آ ئی کراچی کے صدر خرم شیرزمان ، جنرل سیکریٹری سعید آفریدی اور دیگر کے ہمرا ہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہیاگر وزیراعظم عمران خان ان کو یہ یقین دہانی کرادیں کہ پی ٹی آئی احتساب کے بیانیہ پر زور نہیں دے گی ، آج یہ سب پرانی تنخوا پرکام کریں گے۔انہوں نیکہا کہ ن لیگ کی اکثریت بھی نوازشریف اور مریم نواز کے بیانیہ کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا بیانیہ یہ ہے کہ انکے دوبیٹے لندن کے مہنگے علاقے میں رہائش پذیر رہیں اور پاکستان میں کارکنان اور ان کے بچے سڑکوں پر نکلیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہورمسلم لیگ ن کے گڑھ تھا لیکن وہاں لوگوں کو جمع نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ میں نین لیگ اور پیپلزپارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ شادی ہالوں میں جلسہ کیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو آج مدارس کیبچوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ،بے نظیربھٹوں کی جماعت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں کام کرنا پڑ رہا ہے ، پیپلز پارٹی کا عام کارکن اس کی وجہ سیدل میں افسردہ ہوگا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ اداروں پر تنقید کرتی ہے اور کہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 15 نشستیں 25 سو سے کم ووٹوں سے ہاری ہے ، جہاں آر ٹی ایس میں خرابی ہوئی ہے وہاں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف چار حلقے کھولنے کے لئے پی ٹی آئی کوچار سال لگے تھے لیکن عمران خان نے پہلے دن اپوزشن کو کہا تھا کہ اگر ا?پ لوگوں کو لگتا ہے کہ انتخابات میں بے قاعدگیا ں ہوئی ہے تو اس کے لئیکمیٹی بنادیتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نگران حکومت ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے ملکر بنائی تھی اور انتخابات نگران حکومت نے کرائے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ احتساب کا قانون ن لیگ کا بنایا ہوا ہے اور چیئرمین نیب شاہد خاقان عباسی کا لگایا ہوا ہے اور آج جن کیسز کی تحقیقات ہورہی ہے یہ وہی کیسز ہے جو ن لیگ نے پیپلزپارٹی کے خلاف اور پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے خلاف بنائے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق بھی تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہیں وہ بھی ایک مذہبی جماعت کیسربراہ ہیں لیکن ان کے پاس مولانا فضل الرحمن جتنے وسائل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اچانک کیا ہوگیا کہ مولانا فضل الرحمن اربوں روپے کیمالک بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ بجلی پر منتقل کردیں اس کے لئے گورنرسندھ عمران اسماعیل سے کہا ہے کہ وہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے بات کرلیں اور پھر میں بھی اس حوالیسے وزیراعلی سندھ سے ملاقات بھی کرونگا۔پی ٹی آئی کے رہنما وسیم شہزارنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپوزشن کے اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو مال بناو اور جب اپوزشن میں ہوتے ہیں تو مال بچائو ان کا یہی پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک میں عمران خان وزیراعظم ہے اوراحتساب کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزشن نے ملک کو معاشی طورپر بہت کمزورکیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے معیشت کی سمت کو درست کیا ہے









