نیب نے اپنے قیام سے اب تک 466 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے۔نیب اعلامیہ

اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی): نیب نے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک 466ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں، ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ …

اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی): نیب نے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک 466ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں، ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ نیب کی طرف سے یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق بدعنوانی ایک کینسر ہے جس کا واحد حل صرف اور صرف سرجری ہے کیونکہ بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ نیب نے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک 466ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئرمین نے ادارے میں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کرائیں جن کی وجہ سے آج نیب ایک متحرک ادارہ ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کیئے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی پریقین رکھتے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ ، مشال پاکستان جیسے آذادانہ اداروں کے علاوہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے تحت ملک بھر کے 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کی بدولت قومی احتساب بیورو کے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے کام کو مزیدتقویت ملتی ہے۔ آج نیب سارک انٹی کرپشن فورم کو چیئرمین ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسداد بد عنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے جو کہ نیب سمیت پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے چین کے ساتھ انسداد بدعنوانی کے سلسلہ میں ایک ایم او یو سائن کیا ہے تاکہ دونوں ممالک انسداد بد عنوانی کے شعبہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ نیب دنیا میں واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے انسداد بد عنوانی کا معاہدہ کیا ہے۔ نیب کوسال 2019 میں مجموعی طور پر53643 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 42760 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا۔ نیب نے سال 2019 میں2166 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1308شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا۔ نیب نے سال 2019 میں 1686 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ747 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔اسی طرح نیب نے سال 2019 میں609 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 269 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ اس کے علاوہ نیب نے 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے98 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتسا ب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ 56 ریفرنسز کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا ہے۔ اس وقت 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 11 انکوائریوں اور14 انوسٹی گیشزتکمیل کے مراحل میں ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر363 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا اور ان کے کام کو مزید موئڑ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی کا نظام قائکیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ نیب نے اپنے کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا جو کہ وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کی سنجیدہ کاوشوں کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ چیئر مین نیب ہر ماہ کی آخری جمعرات کو عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات کو ذاتی طور پر سنتے ہیں۔ مزید بر آں چیئرمین نیب بزنس کمیونٹی کے ملک کی ترقی میں اہم کردار کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے نہ صرف ہیڈ کوارٹر اسلام آ?باد میں خصوصی سیل قائم کیا بلکہ تمام علاقائی دفاتر میں بھی سیل قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے ایک مشاورتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس پر بزنس کمیونٹی نے چئیرمین نیب کا ان کے مسائل کے حل کے لئے ذاتی کاوشیں کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال بیورکریسی کو ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چئیرمین نیب کی ہدایت پر نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیا ست دان ،بزنس مین ،بیورو کریسی اور معاشرے کے دیگر افراد جب نیب میں آتے ہیں تو ان کی عزت نفس کا خیال کیا جائے کیونکہ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے اور اس کا مقصدکسی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں۔ قومی احتساب بیورو کیچیئر مین جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے جس سے نیب کی کارکردگی جانچنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔نیب بدعنوان عناصر سے عوام کی لوٹی ہوئی رقوم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کرنے کے لئے دن رات کوشا ں ہے۔ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت غیر قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوں کے افراد سے نیب نے عوام کی اربوں روپے کی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا

مزید خبریں