پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے، نظام کھل جا سم سم کی طرح کام نہیں کرے گا ،حکومت نے کم وقت میں انتہائی کامیابیاں حاصل کیں،ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے، نظام کھل جا سم سم کی طرح کام نہیں کرے گا لیکن موجودہ حکومت نے کم وقت میں میگا لیول پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بہت چیزیں بہتر ہو رہی ہیں، پاکستان نے کورونا بحران کے دوران اتنی بڑی کامیابی حاصل کی کہ دنیا بھی اس کا اعتراف کر …

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے، نظام کھل جا سم سم کی طرح کام نہیں کرے گا لیکن موجودہ حکومت نے کم وقت میں میگا لیول پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بہت چیزیں بہتر ہو رہی ہیں، پاکستان نے کورونا بحران کے دوران اتنی بڑی کامیابی حاصل کی کہ دنیا بھی اس کا اعتراف کر رہی ہے، وبا کے باوجود امریکہ اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت بہتر رہی، سابق امریکی سیکرٹری خزانہ کا بیان نہ صرف میرے لئے بلکہ پوری قوم کیلئے باعث فخر ہے، عوام احتیاطی تدابیر جاری رکھیں پاکستان کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاسی اعتراض کو سیاسی سطح پر ہی رکھیں، حکومت پر تنقید ضرور کریں لیکن قومی اداروں کے بارے احتیاط سے گفتگو کریں، پاکستان کی سیاست اور سیاستدانوں پر حملے ہوتے رہیں مگر اداروں کو کمزور کرنے سے دشمنوں کو فائدہ ہو گا، جلسے جلوس کرنا اپوزیشن کا حق ہے، سیاستدانوں اور عوام سے درخواست ہے کہ جلسوں کے دوران کورونا ایس او پیز کا خاص خیال رکھیں، پاکستان کے پارلیمانی نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے جس کے اندر وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ کورونا وائرس بحران کے دوران پاکستان نے اپنا لوہا منوایا اور دنیا پاکستان کی وبا کے خلاف کامیابی کا اعتراف کر رہی ہے، رمضان المبارک میں نماز تراویح کے حوالے سے علمائے کرام کے ساتھ میٹنگز کی گئیں، مساجد میں احتیاطی تدابیر کا اہتمام کیا گیا اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرانے کا کریڈٹ علما کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا دنیا میں دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، یورپ اور امریکہ میں کیسز بڑھ رہے ہیں، پاکستان میں کورونا کیسز میں کمی واقعہ ہوئی تھی، گزشتہ دنوں روزانہ 2 سے ڈھائی سو کیسز سامنے آتے تھے لیکن بے احتیاطی کی وجہ سے آج کل دوبارہ 700 سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں، کورونا اموات کی شرح بھی بڑھی ہے، اسلئے ضروری ہے کہ عوام ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں اور کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جلسے جلوس کرنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، جلسوں میں جانے والے افراد اور اپوزیشن رہنماﺅں سے درخواست ہے کہ احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بیک گرائونڈ میں چلا گیا اب دنیا کی توجہ احتجاج کی جانب ہے، گزشتہ سال مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے کشمیر کاز کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے 2013ءانتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں4 حلقے کھلوانے کی کوشش کی تھی لیکن شنوائی نہ ہوئی، پھر ثبوتوں کے ساتھ عدالت سے رجوع کیا تھا اور دھاندلی ثابت ہوئی تھی، اگر اپوزیشن کو 2018ءانتخابات میں دھاندلی کا یقین تھا تو عدالت جاتی، وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ بتائیں حلقے کھولتے ہیں، سروے کے مطابق 2018ءانتخابات میں پی ٹی آئی جیت رہی ہے، اپوزیشن جماعتیں حکومت پر ضرور تنقید کریں لیکن قومی اداروں کے حوالے سے احتیاط سے گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ایک دن میں سب سے بڑی ایکسرسائز ہوتی ہے اسلئے منتخب حکومت دفاعی اداروں کو درخواست کرتی ہے کہ امن و امان کی صورتحال میں مدد کریں، صاف شفاف انتخابات ہونا ضروری ہے اسلئے الیکٹرانک ووٹ کاسٹ ہونا چاہیے جبکہ ووٹرز کی بائیومیٹرک تصدیق کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے دوران میرے خلاف اسلام آباد میں اسلحہ لانے کا کیس بنایا گیا تھا، میرے وکیل پیشی میں پیش ہوتے ہیں، اگر عدالت کا فیصلہ میرے خلاف ہوا تو فیصلے کے خلاف اپیل کروں گا، عدلیہ پر حملہ نہیں کروں گا، پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تو ن لیگی قائدین اور رہنماﺅں نے عدلیہ کے خلاف مہم شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کلچر بہت خوبصورت ہے، دوسرے ممالک کے کلچر میں رواداری کم ہے اسلئے بیرون مقیم پاکستانی واپس وطن آنا چاہ رہے ہیں، مذاہبی پریکٹس اور کلچر میں فرق کی وجہ سے لوگ واپس ملک آنا چاہتے ہیں۔ صدارتی نظام کے بارے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بات نظام کی نہیں لیڈرشپ کی ہوتی ہے، مرکز اور صوبوں کے درمیان تگ و دو جاری رہے گی کہ ان کے پاس چیزیں زیادہ ہوں، پارلیمانی نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، اگر انہیں بہتر کیا جائے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تاکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام لاکھوں مسائل میں گھری ہوئی ہے، انسٹی ٹیوشنز کسی بھی ریاست کیلئے ضروری ہوتے ہیں، حضور کے زمانے میں بھی انسٹی ٹیوشنز بنائے گئے، این سی او سی ایک بہترین مثال ہے، این سی او سی میں ڈیٹا آتا تھا پھر ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کئے جاتے ہیں، کوویڈ کے دوران وفاق اور صوبوں نے مل کر بہترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا لیکن کوویڈ بحران کے باوجود پاکستان کی معیشت دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے جو کہ انسٹی ٹیوشنز کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعیمراتی صنعت کیلئے اچھا پیکیج دیا تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ تیزی کے ساتھ اوپر جا رہی ہے، اسٹاک مارکیٹ کے اوپر جانے کا مطلب ہے کہ انسٹی ٹیوشن پر لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، موجودہ حکومت نے میگا لیول پر کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم قوموں کو تیزی سے غربت سے نکالتی ہیں، صحت کی خرابی پورے خاندان کو لیکر بیٹھ جاتی ہے، غریب لوگ علاج ہی علاج کے اندر تباہ ہو جاتے ہیں، اسی طرح اگلی دنیا کے اندر جانے کیلئے اعلی تعلیم ہونی چاہیے، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہتری کیلئے کام کر رہا ہوں۔