نیویارک ۔22اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں ، کشمیری نوجوانوں کے مندوب نے سفارت کاروں کوبھارت کے غیر قانونی تسلط کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت سے آگاہ کیا ،اس دوران سفارت کاروں نے براہ راست بھارتی زیر تسلط کشمیر کے نوجوان مندوب سے متنازعہ ریاست میں "وحشیانہ" قبضے میں رہنے والے کشمیریوں کی سنگین اور ناگفتہ بہ حالت زار کے بارے میں سنا۔امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک …
کشمیری نوجوانوں کے مندوب نے اقوام متحدہ میں سفارت کاروں کو بھارتی مظالم اور بربریت سے آگاہ کیا

مزید خبریں
نیویارک ۔22اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں ، کشمیری نوجوانوں کے مندوب نے سفارت کاروں کوبھارت کے غیر قانونی تسلط کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت سے آگاہ کیا ،اس دوران سفارت کاروں نے براہ راست بھارتی زیر تسلط کشمیر کے نوجوان مندوب سے متنازعہ ریاست میں "وحشیانہ” قبضے میں رہنے والے کشمیریوں کی سنگین اور ناگفتہ بہ حالت زار کے بارے میں سنا۔امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک کشمیری ، نوجوان علی زیاد نے دنیا کے تمام خطوں کے نمائندوں کو بتایا کہ کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو بھارتی ظلم و بربریت کا سامنا ہے۔کشمیری نوجوان علی زیاد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سماجی ، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے معاملات سے متعلق تیسری کمیٹی میں منعقدہ یو این یوتھ کے نمائندوں کے لئے ایک غیر رسمی بحث میں حصہ لیا۔یورپی یونین کے وفد کے زیر اہتمام ، اس مباحثے کا مقصد نوجوانوں کو تیسری کمیٹی کے کام میں ان پٹ فراہم کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اس بحث میں ہرمقر رنے صرف تین منٹ تک بات کرنی تھی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے ، جنرل اسمبلی کے صدر ، وولکان بوزکیر نے ، نوجوان نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ایک بہتر دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔یہ آپ کا وقت ہے۔ یہ آپ کی جنرل اسمبلی ہے۔ بوزکیر نے کہاکہ ہم اکٹھے ہوکر اقوام متحدہ تشکیل دے سکتے ہیں جس کی ہمیں مستقبل میں ضرورت ہے۔ علی زیاد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آج دنیا بھر کی تاریخ میں نوجوانوں کی سب سے بڑی نسل موجود ہےتاہم ان میں سے 25 فیصد براہ راست یا بالواسطہ تشدد اور مسلح تنازعات سے متاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بھی ایسے ہی پس منظرسے آیا ہوں۔جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے نمائندے کی حیثیت سے میرا اپنا علاقہ گذشتہ سات دہائیوں سےبھارتی غیرقابونی قبضے میں ہے۔زیاد نے کہا کہ بھارت مکروفریب اور اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کا انکاری ہے۔اس کے بعد انہوں نے گذشتہ سال 5 اگست کےبھارتی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کی طرف توجہ مبذول کروائی جبکہ بھارتی غیرقانونی اقدام کے بعد سے کشمیری عوام پر مظالم بڑھتے گئے۔کشمیری نوجوانوں کے نمائندے نے کہا کہ گذشتہ چودہ مہینوں کے دوران بھارت نے غیر قانونی طور پر 13000 کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا ، ان میں سےمتعدد کو تشدد کا نشانہ بنایا ، نوجوان لڑکوں کوباضابطہ مقدمہ چلائے بغیر پھانسی دی گئی ، پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیااور مکانات مسمار کرکے اور پورے محلے کو جلا کر اجتماعی سزا دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بھارتی بربریت اس وقت دیکھنے میں آئی جب بھارت نے ایک جعلی مقابلے میں 3 نوجوانوں کو ہلاک کردیا ، جن میں سے ایک کی عمر صرف 18 سال تھی۔بھارتی فوج نے ابتدائی طور پر ان تینوں افراد کو "دہشت گرد” قرار دیا تھا لیکن بعد میں 33 سالوں میں پہلی بار ، جعلی مقابلے کا اعتراف کیا۔ علی زیاد نے کہا کہ ایساصرف بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائٹی کی طرف سے چھان بین میں اضافہ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ علی زیاد نے مزید کہا کہ اتنے مظالم کے باوجود آج تک کسی ایک بھی بھارتی فوجی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔کشمیری نوجوانوں کی آواز کی حیثیت سے ، انہوں نے عالمی برادری سے آگے آنے اور اپنا موثر کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔کشمیری نوجوانوں کے مندوب نے کہا کہ بھارتی حکومت کی ان من مانی کارروائیوں کو روکنے اور آبادکاری نوآبادیاتی پالیسیاں روکنے کے لئے میکنزم بنایا جانا چاہئے جو کشمیریوں میں مزید سیاسی ، معاشی اور علاقائی پسماندگی پیدا کررہی ہیں۔








