اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کراچی میں مزار قائد کی بے حرمتی اور جرم پر توجہ دینے کی بجائے افراتفری اور غیر یقینی بڑھانا چاہتی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ بھی مان رہے ہیں کہ وہاں پر غلط کیا گیا ہے، ایسا کرنے والے کو سزا دلوانے کی بجائے الٹا سیاست کی جا رہی ہے، وہاں ایک نا اہل …
اپوزیشن کراچی میں مزار قائد کی بے حرمتی اور جرم پر توجہ دینے کی بجائے افراتفری اور غیر یقینی بڑھانا چاہتی ہے، شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کراچی میں مزار قائد کی بے حرمتی اور جرم پر توجہ دینے کی بجائے افراتفری اور غیر یقینی بڑھانا چاہتی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ بھی مان رہے ہیں کہ وہاں پر غلط کیا گیا ہے، ایسا کرنے والے کو سزا دلوانے کی بجائے الٹا سیاست کی جا رہی ہے، وہاں ایک نا اہل اور کرپٹ حکومت ہے، آپ نتائج کی پرواہ نہیں کر رہے۔ جمعرات کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی پارٹی جس نے قائداعظم کے نام پر اپنا نام رکھا ہوا ہے، اس کے لیڈر کے داماد نے قائداعظم کے مزار کی بے حرمتی کی اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ جس کو پیپلزپارٹی کے وزیر اعلیٰ بھی مان رہے ہیں کہ غلط کیا ہے جس پر ان کے خلاف کیس بنتا ہے، جرم پر توجہ دینے کی بجائے اور یہ دیکھنے کی بجائے کہ اسے کیا سزا ملنی چاہیے کہ اس نے ایسا رویہ اختیار کیا اور ہلڑ بازی کی، الٹا اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان کے مزار کو جلسہ گاہ بنایا گیا، اس پر بات نہیں کی جا رہی، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے ارکان کی تقاریر سن کر کل انہیں جواب دوں گا، اس واقعہ پر اپوزیشن سیاست چمکانا چاہتی ہے اور غیر یقینی پھیلانا چاہتی ہے، یہ پولیس کو خاندانی پولیس بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، تحقیقات کے لئے دو کمیٹیاں بن چکی ہیں، اب اصل واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے سیاسی دبائوڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم وہاں فون کیوں کریں، وہاں ایک نا اہل اور کرپٹ حکومت ہے اور کوئی بھی مسئلہ ہو اور کوئی بھی ادارہ ہو آپ کو ان معاملات کے نتائج کی پرواہ نہیں ہے، یہ افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں اور معیشت جو بہتر ہو رہی ہے اسے نقصان پہنچا رہے ہیں، صرف اپنے لیڈر کو بچانے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے، کراچی کے واقعہ پر قائد حزب اختلاف کی قرارداد بالکل زیر غور نہیں آنی چاہیے اور اس واقعہ پر بحث کرنی چاہیے کہ بانی پاکستان کے مزار کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔








