بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں حکام کو صحافیوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ،جسٹس (ر) رشید اے رضوی کی”اے پی پی ” سے گفتگو

کراچی۔22اکتوبر (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں نہ صرف آزادی اظہار رائے پرپابندیا عائد کی گئی ہے بلکہ وہاں تمام بنیادی حقوق معطل ہیں ، بھارتی فوج وہاں ہمارے تصور سے بھی زیادہ مظالم کررہی ہے ، نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکومت کو صحافیوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ، بھارت سرکار نے میڈیا پالیسی 2020 میں …

کراچی۔22اکتوبر (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں نہ صرف آزادی اظہار رائے پرپابندیا عائد کی گئی ہے بلکہ وہاں تمام بنیادی حقوق معطل ہیں ، بھارتی فوج وہاں ہمارے تصور سے بھی زیادہ مظالم کررہی ہے ، نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکومت کو صحافیوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ، بھارت سرکار نے میڈیا پالیسی 2020 میں فیک نیوز اور اشتعال انگیزی کو ختم کرنے کی آڑ میں حکومت کی جانب سے یکطرفہ اور جابرانہ اقدامات پر تنقید کرنے والے کشمیری صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سپریم کورٹ بارکے سابق صدر جسٹس (ر) رشید اے رضوی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد ڈاکٹر عرفان عزیز نے ” اے پی پی ” سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔جسٹس (ر) رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اورفوج نے اپنے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں نہ صرف آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کی ہے بلکہ وہاں تمام بنیادی حقوق معطل کئے ہیں ۔دنیا کو حقیقی صورتحال سے لاعلم رکھنے کے لئے بھارت نےعالمی تنظیوں پر بھی وہاں جانے پر پابندیاں عائد کررکھیں ہیں ۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں ہم جن مظالم کا تصورکرسکتے ہیں بھارت اوربھارتی فوج اس سے بھی زیادہ مظالم کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے وہاں انتہاپسندی کو مزید فروغ ملا ہے اور مذہبی جنونیت بڑھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے استاد ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہاکہ بھارت سرکار نے میڈیا پالیسی 2020 میں فیک نیوز اور اشتعال انگیزی کو ختم کرنے کی آڑ میں حکومت کی جانب سے یکطرفہ اور جابرانہ اقدامات پر تنقید کرنے والے کشمیری صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کیں ہیں، کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ پابندیاں تو کشمیرمیں پہلے سے موجودتھیں لیکن اب ان پابندیوں کو آئینی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے، نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکوت کو صحافیوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے مزید کہا کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں سیاسی حالات اس وقت زیادہ ابتری کا شکار ہو ئے جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صحافیوں کو طویل عرصے سے پابندیوں اور سرکاری جبر کا سامنا تھا مگر کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے بعد کشمیری عوام کی آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا کہ نئی پالیسی میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کو سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنےکےاختیارات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح فیک نیوز اور اشتعال انگیزی کی تعریف بھی سرکاری اہلکاروں کی مرہون منت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کشمیر کی خودمختار حیثیت کو ختم کرنے کے بعد انٹرنیٹ کی سروس بند کر دی گئی اور بعد میں 2جی کی سروس بحال ہوئی جوصحافتی ضروریات کے لئے ناکافی تھی۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے مزید کہا کہ کووڈ۔ 19اور کشمیر میں خصوصی حالات کی آڑ میں ان پابندیوں کو مزیدسخت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط میں کشمیر میں قائم ڈپارٹمنٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن کو صحافیوں اور صحافتی اداروں کی نگرانی کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں ۔ یہ ادارہ فیک نیوز، مس انفارمیشن اور سرقہ نویسی اور غیر ریاستی سرگرمیوں کی آڑمیں حکومت پر ہونے والی تنقید کو دبانے کے لئے اقدامات کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی میڈیا پالیسی میں اس سرکاری ادارے کو صحافیوں اور صحافتی اداروں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے کہا کہ مارچ 2019 میں مودی سرکار کی جانب سے کشمیر میں اخبارات کے اشتہار روکنے کے خلاف وادی کے تمام بڑے اخبارات نے صفحہ اول کو سادہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان اخبارات میں ڈیلی گریٹر کشمیراور ڈیلی کشمیر ریڈر جیسے بڑے اور اہم اخبارات بھی شامل تھے۔