وزارت انسانی حقوق نےدو سال میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اہم کامیابیاں حاصل کیں، رپورٹ

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وزارت انسانی حقوق نے گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بہت سی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزارت انسانی حقوق نے آئی سی ٹی گھریلو تشدد بل 2020کی تیاری، خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے پالیسی کو حتمی شکل دینے اور متعدد تحقیقی و آگاہی مہمات کے انعقاد سمیت خواتین کے حقوق کے حوالے …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وزارت انسانی حقوق نے گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بہت سی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزارت انسانی حقوق نے آئی سی ٹی گھریلو تشدد بل 2020کی تیاری، خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے پالیسی کو حتمی شکل دینے اور متعدد تحقیقی و آگاہی مہمات کے انعقاد سمیت خواتین کے حقوق کے حوالے سے متعدد اقدامات اٹھائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارت انسانی حقوق نے خواتین کے وراثت کے حق کو اجاگر کرنے لئے قومی ایکشن پلان کے تحت عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی۔ وزارت نے پاکستان کمیشن برائے قانون و انصاف کے ساتھ مل کر ”لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل“ تیار کیا جسے پارلیمنٹ پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت نے زینب الرٹ قانون 2020کے نفاذ، چائلڈ ایمپلائمنٹ ایکٹ 1991کے شیڈول I کے تحت بچوں سے جبری مشقت کے خاتمہ سمیت ملک میں بچوں کے حقوق کو بہتر بنانے کے لئے بھی نمایاں پیشرفت کی۔ لیگل ایڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020نافذ کیا گیا جس کے تحت متاثرین کو مفت قانونی امداد بھی فراہم کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2018 اور دی جووینائل سسٹم ایکٹ 2018ءبھی نافذ کئے گئے ہیں۔