اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کاحقیقی تصورپیش کرتے ہوئے پانچویں جماعت سے لیکرنویں جماعت تک تعلیمی نصاب میں حضرت محمدﷺکی سیرت شامل کرایا ہے، موجودہ دورحکو مت میں وہ تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جوماضی میں نام نہاددینی جماعتوں کے دوراقتدارمیں نہیں اٹھائے گئے۔انہوں نے کہاکہ سود کے خلاف قانون پاس کرنا اورمساجد میں سولرسسٹم لگانا بھی پاکستان تحریک انصاف …
وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کاحقیقی تصورپانچویں جماعت سے نویں جماعت تک کے نصاب میں شامل کرایا،اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کاحقیقی تصورپیش کرتے ہوئے پانچویں جماعت سے لیکرنویں جماعت تک تعلیمی نصاب میں حضرت محمدﷺکی سیرت شامل کرایا ہے، موجودہ دورحکو مت میں وہ تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جوماضی میں نام نہاددینی جماعتوں کے دوراقتدارمیں نہیں اٹھائے گئے۔انہوں نے کہاکہ سود کے خلاف قانون پاس کرنا اورمساجد میں سولرسسٹم لگانا بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی مرہون منت ہے۔ موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی واحدحکومت ہے جوپسماندہ طبقے کواوپرلانے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کابھی وہ واحدلیڈر ہے جنہوں نے اقوام متحدہ میں حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف بھی آوازاٹھائی اورکہاکہ آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات مجروح کرکے ہمارے دلوں کورنجیدہ نہ کیاجائے، حضرت محمدﷺکے ساتھ محبت کرناہمارے ایمان کاجزہے۔ انہوں نے کہاکہ سرورکونین حضرت محمدﷺ کے ایک بال بدلے دنیاجہان کی مال ودولت کوبھی خس سمجھتے ہیں، حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت بھی برداشت نہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے یونین کونسل بٹاکارا ضلع صوابی میں گورنمنٹ پرائمری سکول اور پیہورہاملیٹ روڈکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہاکہ اسلام کے نام پرحکومت کے خلاف نشترچلانے والوں کواسلام کانہیں اپنی کرسی کافکرہے، اسلام کوالحمداللہ کوئی خطرہ نہیں مگریہ نام نہاد لیڈراپنی کرسی کے غم میں ضرورایسے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک مجھ میں جان ہے دین کوخطرہ تودورکی بات ایک لفظ بھی کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ہم اسلام کے سپاہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے افغانستان کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات کاآغازکردیاہے جس میں رشکئی اکنامک زون کلیدی کردارادا کرے گا، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں، پاکستان میں امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کے ذریعے ہم وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کوافغانستان تک توسیع دی جائے جس سے افغانستان میں نہ صرف عوام کوروزگارکے مواقع فراہم ہوں گے بلکہ دہشت گردی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگا۔







