اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):”زینب الرٹ“ نے شہریوں کو پاکستان سٹیزن پورٹل پر ملک میں گمشدہ بچوں کی اطلاع دینے کا ایک آسان اور موثر حل فراہم کیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق کے مطابق زینب الرٹ کے ذریعے مقامی حکام کو گمشدہ بچوں کے حوالے سے فوری اقدام اٹھانے میں مدد ملے گی۔ وزارت انسانی حقوق نے زینب الرٹ کے بارے میں ایک ویڈیو ٹیوٹوریل بھی جاری کیا ہے جس …
زینب الرٹ نے شہریوں کو پاکستان سٹیزن پورٹل پر ملک میں گمشدہ بچوں کی اطلاع دینے کا آسان اور موثر حل فراہم کیا، وزارت انسانی حقوق

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):”زینب الرٹ“ نے شہریوں کو پاکستان سٹیزن پورٹل پر ملک میں گمشدہ بچوں کی اطلاع دینے کا ایک آسان اور موثر حل فراہم کیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق کے مطابق زینب الرٹ کے ذریعے مقامی حکام کو گمشدہ بچوں کے حوالے سے فوری اقدام اٹھانے میں مدد ملے گی۔ وزارت انسانی حقوق نے زینب الرٹ کے بارے میں ایک ویڈیو ٹیوٹوریل بھی جاری کیا ہے جس میں زینب الرٹ کے استعمال کے طریقہ کار سے تفصیل سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پرائم منسٹر ڈیلیوری یونٹ کی جانب سے اس ایپ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ عام شہری کو باآسانی متعلقہ اداروں کے ساتھ منسلک کر سکے۔ اس ایپ کا بنیادی مقصد گمشدہ بچوں یا تشدد، زیادتی کار شکار بچوں کے واقعات کو رپورٹ کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے ۔ اس ایپ میں وہ تمام فیچرز متعارف کروائے گئے ہیں جس کے ذریعے شہری اپنے اور بچے کے متعلق معلومات ایپ میں ڈال سکیں گے۔ اگر کوئی شہری ذاتی حیثیت میں کوئی واقعہ رپورٹ کرانا چاہے تو اسے ہر قسم کی دستیاب معلومات اس میں فراہم کرنا ہوں گی جس میں بچے کا نام، عمر، حلیہ وغیرہ سب مہیا کرنا ہوگا۔ اس ایپ میں اضافی معلومات کے لئے ایک خانہ دیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شہری سماجی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے کسی کیس کو رپورٹ یا اس کی معلومات دینا چاہے تو وہ ایپ میں دیئے گئے آپشن ”سماجی ذمہ داری“ پر کلک کر کے معلومات درج کر سکتا ہے۔ زینب الرٹ ایپ میں ہر شہر کی ایک لسٹ دی گئی ہے جس میں ہر کیس سے متعلق معلومات بھی درج ہیں۔ اس کے علاوہ اس ایپ میں سوشل میڈیا پر شئیرنگ کا آپشن بھی موجود ہے تاکہ گم شدہ بچوں کو ڈھونڈنے میں مدد مل سکے۔ دریں اثناءوزارت وزارت انسانی حقوق نے اپنے آگاہی پروگرام کے تحت معاشرے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا شعور بیدار کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کو مصروف عمل کر رکھا ہے، یہ کمیٹیاں معاشرتی آگاہی کے لئے مختلف سیشنز منعقد کر رہی ہیں تاکہ بچوں کو معاشرتی رویوں اوراستحصال سے بچایا جاسکے۔ گزشتہ روز زینب الرٹ کے بارے میں ایک آگاہی سیشن وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے سوہان میں منعقد ہوا جس میں لوگوں کو زینب الرٹ کے استعمال اور واقعہ رپورٹ ہونے کے بعد کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ وزارت انسانی حقوق کے مطابق ان سیشنز کے ذریعے بچوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اورمعاشرے کے دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں کو بچوں کے حقوق، موجودہ قوانین پر عملدرآمد اور معاشرے سے منفی رویوں کے خاتمہ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ بھی کیا جارہا ہے اور مختلف طبقات کی شمولیت کے ذریعے صورتحال میں بہتری کے لئے ملکر کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ وزارت انسانی حقوق اس ضمن میں اب تک مختلف آگاہی سیشنز کا انعقاد کر چکی ہے جس میں حقوق اطفال کے تحفظ کی کمیٹیوں کے ذریعے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقوں سوہان، بری امام، سیدپو، ترنول، گولڑہ، شاہ اللہ دتہ اور 26 نمبر چونگی میں 5 آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا گیا تاکہ ان علاقوں کے مکینوں کو بچوں کے حقوق اور معاشرتی رویوں سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔ شعور بیداری کے ان سیشنز کے شرکاءکو آئین پاکستان میں بچوں کو فراہم کردہ حقوق کے ساتھ ساتھ حال ہی میں منظور کئے گئے زینب الرٹ ایکٹ جیسی قانون سازی اور بچوں سے جبری مشقت کے خاتمہ، بچوں کے گھریلو ملازمت کے خاتمہ سے متعلق روزگارایکٹ۔1991 میں ترمیم جیسے قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ شرکاءکو مفت ہیلپ لائن نمبر 1099 سے متعلق آگاہ کیا گیا جس کے ذریعے ایسے واقعات کو فوری رپورٹ کیا جانا ممکن ہو گا اور متاثرہ خاندان کو وزارت انسانی حقوق کی طرف سے مف قانونی مدد کے حصول میں مدد ملے گی۔ وزارت کو معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے مثبت آرا بھی موصول ہو رہی ہیں جنہیں پہلے ان حقوق کے بارے میں آگاہی نہیں تھی اور لوگوں نے ان سیشنز کا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ سیشنز میں شر کت پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق باقی ماندہ علاقوں میں بھی اس طرح کے سیشنز منعقد کرائے گی۔







