راولپنڈی۔10نومبر (اے پی پی):بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر قائم کورٹ آف انکوائری نے آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق اپنی انکوائری مکمل کر لی ہے ، کورٹ آف انکوائری کی سفارش پر متعلقہ افسران کو موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے اورمزید انکوائری جی ایچ کیو میں متعلقہ شعبوں میں کی جائے گی ، ان افسران نے واقعہ پر جذباتی ردعمل …
بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر قائم کورٹ آف انکوائری نے آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق انکوائری مکمل کر لی

مزید خبریں
راولپنڈی۔10نومبر (اے پی پی):بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر قائم کورٹ آف انکوائری نے آئی جی سندھ کے تحفظات سے متعلق اپنی انکوائری مکمل کر لی ہے ، کورٹ آف انکوائری کی سفارش پر متعلقہ افسران کو موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے اورمزید انکوائری جی ایچ کیو میں متعلقہ شعبوں میں کی جائے گی ، ان افسران نے واقعہ پر جذباتی ردعمل کا اظہار کیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کی 18 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعہ کی شکایات پر بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورٹ آف انکوائری قائم کی تھی ۔ کورٹ آف انکوائری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 18/19 اکتوبر کی شب پاکستان رینجرز (سندھ) اور آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹرز کراچی کےافسران مزار قائدکی بے حرمتی کے واقعہ پر ممکنہ عوامی ردعمل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا تھے اور انہیں قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے شدید عوامی دباو کا سامنا تھا ، پولیس کے ممکنہ طور پر سست ردعمل کا اندازہ لگاتے ہوئے ان افسران نے جذباتی ردعمل کا اظہار کیا ۔ان افسران کو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے اس اقدام کی وجہ سے دو ریاستی اداورں میں غلط فہمی پیدا ہوئی ۔ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات پر ان افسران کو موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور ان کے خلاف جی ایچ کیو میں اپنے اپنے شعبوں میں مزید انکوائری کی جائے گی ۔







